پاک بحریہ نے گوادر سے قریباً 1500 کلومیٹر دور سمندر میں ایک کامیاب ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے سری لنکن عملے کے ایک بیمار رکن کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا۔

مزید پڑھیں: پاک بحریہ کا سری لنکا میں سیلاب ریسکیو آپریشن جاری، متاثرہ خاندان کی محفوظ منتقلی

ترجمان پاک فوج کے مطابق یہ آپریشن سری لنکن میری ٹائم ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر کی درخواست پر شروع کیا گیا۔ اطلاع ملتے ہی پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس معاون اور پی این ایس تبوک فوری طور پر امدادی کارروائی کے لیے روانہ ہوئے۔

پاک بحریہ کے اہلکاروں نے انڈونیشیا کے پرچم والے جہاز ایم وی گرے پام (MV GREY PALM) سے بیمار سری لنکن عملے کے اہلکیار کو ریسکیو کیا اور پی این ایس تبوک پر منتقل کرکے فوری طبی امداد فراہم کی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاک بحریہ نے بین الاقوامی میری ٹائم پروٹوکولز کے تحت پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ آپریشن مکمل کیا۔

اس اقدام پر سری لنکن حکام اور متاثرہ شخص کے اہل خانہ نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

ترجمان کے مطابق پاک بحریہ سمندر میں انسانی زندگی کے تحفظ کے لیے کسی بھی قومیت کے افراد کی مدد کے لیے اپنی بین الاقوامی ذمہ داری پوری کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک بحریہ کا بحیرہ عرب میں کامیاب آپریشن، 8 ماہی گیروں کو بحفاظت ریسکیو کرلیا

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کامیاب ریسکیو آپریشن پاک بحریہ کی اعلیٰ آپریشنل تیاری اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے دیرینہ عزم کا عملی مظاہرہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews انسانی ہمدردی پاک بحریہ کامیاب ریسکیو آپریشن وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاک بحریہ کامیاب ریسکیو ا پریشن وی نیوز کامیاب ریسکیو پاک بحریہ کا کے لیے

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا