سانحہ گل پلازہ؛ قتل کا مقدمہ حکومت کے خلاف ہونا چاہیے، تاجر رہنما
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
کراچی:
آل کراچی تاجر الائنس کے رہنما عتیق میر نے گل پلازہ آتشزدگی پر حکومتی اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ قتل کا مقدمہ حکومت کے خلاف ہونا چاہیے۔
آل کراچی تاجرالائنس کے رہنماؤں کی میڈیا سے گفتگو کی اور اس دوران تاجر رہنما عتیق میر نے کہا کہ چھوٹے مقامات پر بھی حکمران ہیلی کاپٹر میں سفر کرتے ہیں جبکہ فائر بریگیڈ کا عملہ آگ بجھنے کا انتظام کررہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کیا کوئی ہیلی کاپٹر آیا آگ بجھانے، قتل کا مقدمہ حکومت کے خلاف ہونا چاہیے۔
تاجر الائنس کے چیئرمین حکیم شاہ نے کہا کہ اول دن سے کے ایم سی اور حکومت سندھ کی نااہلی دیکھی، حکومت کہہ رہی ہے 90 فیصد کام مکمل ہوا ہے جبکہ اب تک کچھ ہی فیصد کام ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاست والے لوگ سیاست ہی کررہے ہیں، تاجروں کو حق دینے والا کون آئے گا، اس سانحے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ذمہ داران کو ہی کمیٹی میں سامل کیا ہے لیکن ہمیں جہاں جانا پڑا جائیں گے۔
آل کراچی تاجر الائنس کے حکیم شہزاد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح کی نااہلی حکومت سندھ کی اس سانحے میں دیکھ رہے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی، کہا جا رہا ہے کہ 90 فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے لیکن 10 فیصد کام بھی مکمل نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ کام کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر الزامات لگائے جارہے ہیں، 1990 کے نقشے نکال کر سیاست کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو جو تاجر متاثر ہوا ہے اس کی مدد کی جائے، اور یہ معاوضہ سالوں اور مہینوں میں نہیں بلکہ دنوں میں دیا جائے، اگر یہ نہیں کیا گیا، تو اس کے خلاف سڑکوں پر آئیں گے، اگر پورے پاکستان کی بھی دکانیں بند کرنا پڑیں تو وہ بھی کریں گے۔
تاجر رہنما رضوان عرفان نے کہا کہ ایک ہفتے سے زائد کا وقت گزر گیا ہے لیکن اب تک ملبہ نہیں اٹھایا گیاجبکہ متاثرین در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہی نامعلوم کے خلاف مقدمہ درج ہوا ہے، نامعلوم ہمیشہ نامعلوم ہے معلوم ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ فائر فائٹرز اندر عمارت کے بجائے دیواروں پر پانی مارتے رہے، کے ایم سی فائر بریگیڈ کی کیا حالت ہے۔
رضوان عرفان نے کہا کہ پانچ لاکھ فوری دینے کا کہا جو ناکافی ہے، عید آنے والی ہے مال کی مد میں 15 ارب کا نقصان ہوا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ کے پاس پاور ہے فوری پیسہ دیا جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جو ملوث ہو اس کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ ہونا چاہیے فیصد کام کے خلاف ہوا ہے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔