چھوٹے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے ابھی مائیکروفنانس بینک اور فن لیپ کے درمیان معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان میں آبادی کے ایک بڑے حصے کو روایتی بینکوں کی جانب سے مالیاتی خدمات فراہم نہیں کی جاتی ہیں۔ اسی طبقے کو ڈیجیٹل زرائع سے قرض کی فراہمی اور قلیل مدتی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے ابھی مائیکرو فنانس بینک اور فن لیپ فنانشل سروسز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔
تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ پاکستان میں بہت سے افراد اور چھوٹے کاروبار کو بروقت اور سستی مالیات تک رسائی محدود ہے۔ اس مالیاتی رکاوٹ کی وجہ سے وہ افراد صلاحیت کے باوجود اپنی آمدن کو بڑھانے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس سے ملک میں مالیاتی تفریق کوکم کرنا اور رسمی کریڈٹ تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔
ایسے افراد جن کی رسائی بینکاری نظام تک نہیں ہے ان کو چھوٹے قرضوں تک رسائی کو ٹیکنالوجی کے زریعے فروغ دیں گے۔ اور ایک ایسا نظام وضع کریں گے جو کہ سادہ، شفاف اور صارفین کی روزمرہ کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہو۔ فن لیپ کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم دائرہ کے ذریعے قلیل مدتی قرض کی فراہمی کو آسان اور سہل بنایا جائے گا۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب میں دونوں اداروں کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔ مفاہمت کی یادداشت پر ابھی مائیکرو فنانس بینک کی چیف کمرشل آفیسرمریم پرویز اور فن لیپ فنانشل سروسز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شیخ عمر نسیم نے دستخط کیے۔ اس موقع پر ابھی کے ‘انٹرپرینیور ان ریزیڈنس’ کبیر نقوی اور دونوں ٹیموں کے اراکین بھی موجود تھے۔
دونوں اداروں کی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ مالیات تک رسائی کا بہتر بنانا صرف مصنوعات کی فراہمی تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ لوگوں کو معاشی طور پر فعال بنانے، نقد رقم کی ضروریات کو سنبھالنے اور چھوٹے پیمانے پر کھپت بڑاھانے میں معاون ہوگا۔
اگرچہ یہ شراکت داری ریگولیٹری تقاضوں اور صنعت کے بہترین طریقوں کے مطابق آگے بڑھے گی، لیکن دونوں تنظیمیں اس تعاون کو پاکستان میں ڈیجیٹل قرضہ دہی اور ‘ایمبیڈڈ فنانس’ (embedded finance) کے منظر نامے کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتی ہیں، جو جامع ترقی اور مالیاتی خدمات تک رسائی کے دیرینہ خلا کو پُر کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ