کچہ آپریشن، 1 کروڑ سر کی قیمت والے ڈاکو سمیت مزید 24 انتہائی مطلوب ڈاکوؤں نے سرینڈر کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
—فائل فوٹو
راجن پور کے کچے میں آپریشن کے دوران مزید 24 انتہائی مطلوب ڈاکوؤں نے سرینڈر کر دیا۔
ڈی پی او راجن پور محمد عمران کے مطابق لونڈ گینگ کے سرغنہ نے اپنے ساتھیوں سمیت پولیس کو گرفتاری دے دی، 1 کروڑ روپے سر کی قیمت والے بدنام ڈاکو صدری نے بھی سرینڈر کر دیا۔
شکار پور پولیس لائن میں سرنڈر پالیسی کے تحت منعقدہ تقریب میں کچے کے ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیئے۔
انہوں نے بتایا کہ کچہ آپریشن میں سرینڈر کرنے والے ڈاکوؤں کی تعداد 211 ہو گئی، سرینڈر کرنے والے ڈاکو پولیس اہلکاروں کی شہادت، قتل، اغواء اور ڈکیتی کے مقدمات میں مطلوب تھے۔
ڈی پی او راجن پور محمد عمران نے بتایا ہے کہ پولیس نے کچے کا علاقہ 80 فیصد کلیئر کر لیا، گرفتار ڈاکوؤں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ڈرون ٹیکنالوجی سے ڈاکوؤں کے ٹھکانوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، آپریشن کے دوران ڈاکوؤں کے 29 ٹھکانے تباہ کر دیے گئے جبکہ متعدد ڈاکو شدید زخمی ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈاکوو ں
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔