Daily Mumtaz:
2026-07-24@02:53:44 GMT

کراچی میں 418 سڑکوں کی ازسرِ نو تعمیر کا فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT

کراچی میں 418 سڑکوں کی ازسرِ نو تعمیر کا فیصلہ

کراچی کے شہریوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) نے شہر بھر میں 418 سڑکوں کی ازسرِ نو تعمیر کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا مقصد شہر کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانا اور عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔
ترجمان کے ایم سی کے مطابق یہ فیصلہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی زیرِ صدارت محکمہ انجینئرنگ کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کے دوران میئر کراچی نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے فنڈز کی منظوری کا عمل جاری ہے، اس لیے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ٹینڈرز جلد از جلد جاری کیے جائیں تاکہ ترقیاتی کام فوراً شروع ہو سکیں۔
مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ شہر کا انفرااسٹرکچر تیزی سے بہتر ہو اور کراچی کے عوام اس بہتری کو اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کریں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی ہدایت پر کراچی کے لیے ایک خصوصی پیکیج اور اضافی فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ شہر کے دیرینہ مسائل حل کیے جا سکیں۔
اجلاس میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ میئر کراچی نے میونسپل کمشنر سمیرا حسین کو ہدایت دی کہ تمام منصوبوں میں بیوٹیفکیشن کو بھی شامل رکھا جائے، تاکہ شاہراہیں صرف مکمل ہی نہ ہوں بلکہ دیکھنے میں بھی خوبصورت ہوں۔
اس موقع پر مشیرِ مالیات گلزار ابڑو نے 418 سڑکوں کی نئی تعمیر سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور مجوزہ منصوبے کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار