عمران خان سے ملاقات، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا جمعرات کو اڈیالہ جیل جانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
نوشہرہ:
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ سے اڈیالہ جیل میں ملاقات نہ کرانے پر تنقید کا اظہار کرتے ہوئے جمعرات کو اڈیالہ جیل جانے کا اعلان کردیا۔
نوشہرہ کے علاقے تاروجبہ میں اسٹریٹ موومنٹ ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ تحریک فسطائیت کے خلاف ایک منظم، پرامن اور آئینی جدوجہد ہے، جس میں کسی قسم کے تشدد یا انتشار کی کوئی گنجائش نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری قیادت نے ہمیں پرامن سیاسی جدوجہد کی جو تربیت دی ہے، ہم اس پر مکمل طور پر کاربند ہیں، اسی لیے اس پوری تحریک کے دوران ایک گملا تک نہیں توڑا گیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہم پرامن تھے، پرامن ہیں اور پرامن ہی رہیں گے کیونکہ آئین پاکستان ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم اس آئینی حق کو ہر صورت استعمال کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسٹریٹ موومنٹ کو 8 فروری تک عروج پر لے جایا جائے گا، جس کا مقصد ناحق قید اپنے قائد کی رہائی کے لیے عوامی آواز کو منظم اور طاقت ور بنانا ہے جبکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی اسی مرحلے پر کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹریٹ موومنٹ کے دوران عوام میں جو جذبہ، ولولہ اور جوش و خروش انہوں نے دیکھا، وہ بے مثال ہے اور اس پر وہ تمام شرکا کو سلام پیش کرتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ قومی سطح کے مقبول رہنما عمران خان کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے جو نہ صرف انسانی حقوق بلکہ جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے، یہاں تک کہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی جو غیر سیاسی ہیں، انہیں بھی قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، جو انتہائی افسوس ناک اور تشویش ناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو فیملی ملاقات تک کی اجازت نہیں دی جا رہی، جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، جو عناصر ملاقاتوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ فوری طور پر یہ رکاوٹیں ختم کریں کیونکہ اگر عوامی غصہ اسی طرح بڑھتا رہا تو اس کے نتائج اور ذمہ داری انہی عناصر پر عائد ہوگی۔
وزیراعلی نے واضح کیا کہ یہ جدوجہد کسی فرد کے لیے نہیں بلکہ آئین، جمہوریت، قانون کی بالادستی اور عوام کے حق حکمرانی کے لیے ہے اور خیبرپختونخوا کے عوام اس مقصد کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں، مگر اپنا راستہ آئین اور پرامن جدوجہد سے کبھی نہیں ہٹائیں گے۔
بعد ازاں وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے مردان میں پاکستان چوک پر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس جوش، نظم و ضبط اور سیاسی شعور کا مظاہرہ عوام نے کیا ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قوم اپنے حقوق اور آئین کے تحفظ کے لیے پوری طرح بیدار ہو چکی ہے۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ وہ جمعرات کو اڈیالہ جیل جائیں گے اور اس ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات ہوں یا احتجاج، اس کا اختیار تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پاس ہے، اور اگر جیل سے احتجاج کی کال آئی تو پھر کسی کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی، اب بھی وقت ہے کہ یہ ظلم و جبر بند کیا جائے کیونکہ طاقت کے زور پر قوم کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل نے کہا کہ انہوں نے کے لیے کیا کہ
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔