اس سال ٹیکس ریٹرن میں 20 فیصد اضافہ ہوا، چیئرمین ایف بی آر
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال نے کہا ہے کہ گزشتہ سال 4 اعشاریہ 9 ملین افراد نے ٹیکس ریٹرن جمع کروائے جبکہ اس سال 5 اعشاریہ 9 ملین ٹیکس ریٹرن جمع ہوئیں۔
الحمرا ہال میں تھنک فیسٹ کے دوسرے روز ٹیکس کے حوالے سے نشست ہوئی، جس میں مفتاح اسماعیل اور راشد محمود لنگڑیال نے شرکت کی۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اس سال ٹیکس ریٹرن میں 20 فیصد اضافہ ہوا، تنخواہ دار پر ٹیکس ریٹ زیادہ ہے، ریجنل ممالک سے موازنہ کریں تو ہمارا ریٹ زیادہ ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پشاور کے ریجنل ٹیکس آفس نے 6 لاکھ 4 ہزار 854 کلو گرام تمباکو گرین لیف برآمد کرلیا۔
انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار اپنی آمدن چھپا نہیں سکتا، 15 سال پہلے ٹیکس ریٹ کم تھا، تب بھی لوگ کم ٹیکس دیتے تھے۔
راشد محمود لنگڑیال نے مزید کہا کہ 500 ارب وفاقی حکومت کا خرچہ ہے، کمپلائنس ریٹ بڑھانا پڑے گا، آپ نے سپر ٹیکس کی بحث پچھلے سال سے سنی، یہ کئی سال سے تھا، عملدرآمد ہوا تو اس پر شور مچایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر میں ایک فیصد ٹیکس ایڈوانس ہے، اصل مسئلہ ہے کہ ٹیکس رجیم ہائی ہے، ایکسپورٹ بڑھانا انتہائی ضروری ہے، ایکسپورٹ لیڈ اکانومی کے بنا ہم نہیں چل سکتے۔
چیئرمین ایف بی آر نے یہ بھی کہا کہ یہاں ہمیشہ بات ہوئی کہ بجلی گیس کی قیمت کم کریں، ہم نے طاقت ور شوگر ملوں، سیمنٹ سیکٹر پر مانیٹرنگ کی اور ٹیکس بڑھایا۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل ملز کے پاس گئے، انہوں نے کہا کیمرے نہیں لگوانے، جو جتنا طاقتور ہے وہ کیمرے نہیں لگوانا چاہتا۔ جس سیکٹر سے کہیں ٹھیک ہوجائیں وہ کہتے ہیں دوسرے کو کریں، خود کوئی ٹھیک نہیں کرنا چاہتا۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت میں سیلز ٹیکس آن گڈز برابر ہے، بھارت میں اس مد میں 5 یا 6 فیصدجی ڈی پی اکٹھا ہوتا ہے، پاکستان میں اس مد میں 3 فیصد ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے۔
چیئرمین نے کہا کہ ایف بی آر میں 17 ہزار افراد کام کرتے ہیں، محکمے میں ٹیکنالوجی لارہے ہیں، ایک سال میں بہت اصلاحات کیں، ایف بی آر میں سفارش کو جرم قرار دیا، ہم نے ملازمین کے خلاف کارروائی کی، کرپشن پر گرفتار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ٹیکس ریٹرن ایف بی ا ر نے کہا کہ ٹیکس ریٹ ٹیکس ا
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔