سندھ ہائیکورٹ کے مستقل ہونے والے 10 ججز نے اپنےعہدوں کاحلف اٹھالیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
سندھ ہائیکورٹ کے مستقل ہونے والے 10 ججز نے اپنےعہدوں کا حلف اٹھالیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ ظفراحمد راجپوت نےججز سے حلف لیا۔ حلف اٹھانے والوں میں جسٹس میراں محمد شاہ، جسٹس تسنیم سلطانہ، جسٹس ریاضت علی سحر شامل ہیں۔
اس کے علاوہ جسٹس محمد حسن اکبر، جسٹس عبدالحمید بھرگڑی اور جسٹس جان علی جونیجو، جسٹس نثاراحمد بھانبھرو، جسٹس علی حیدرادا، جسٹس محمدعلی قاسم علی ہادی اور جسٹس محمدجعفررضا شامل ہیں۔
تقریب حلف برداری سندھ ہائیکورٹ کےججز میں ایڈیشنل اٹھارنی جنرل ایڈووکیٹ جنرل سندھ شامل ہوئے۔ تقریب میں حلف اٹھانے والے ججز کے اہلخانہ, پراسیکیوٹر جنرل اور وکلا کی بڑی تعداد شامل تھی۔
سندھ ہائیکورٹ کےجسٹس خالدحسین شاہانی اورجسٹس فیض الحسن شاہ کو مستقل نہیں کیا گیا.
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل سندھ ہائیکورٹ کے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔