پیپلز پارٹی تو مہرہ ہے، مجرم اسٹیبلشمنٹ ہے
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260125-03-8
کسی دانا نے بہت پہلے خبردار کر دیا تھا کہ چور کو پکڑنے سے کچھ نہیں بدلتا، اصل کام چور کی ماں کو پکڑنا ہے، کیونکہ واردات کی منصوبہ بندی وہی کرتی ہے۔ چور تو محض استعمال ہوتے ہیں، بدلے جاتے ہیں اور وقت آنے پر پھینک دیے جاتے ہیں، مگر ماں ہمیشہ سلامت رہتی ہے، طاقتور بھی اور بااختیار بھی۔ اگر کراچی کی تباہی کو اسی زاویے سے دیکھا جائے تو ساری کہانی ایک ہی لمحے میں بے نقاب ہو جاتی ہے۔ اس بات میں کوئی ابہام نہیں کہ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور کسی حد تک پی ٹی آئی اس شہر کی بربادی کے مجرم ہیں۔ یہ سب قصوروار ہیں۔ فرق صرف طریقۂ واردات کا ہے۔ کوئی جیب کاٹتا ہے اور کوئی پورا بینک لوٹ لیتا ہے۔ مگر مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوتا بلکہ یہی وہ مقام ہے جہاں اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔ یعنی اصل ڈاکو وہ ہے جو ان سب کو باری باری استعمال کرتا ہے، جو ہر چند سال بعد نیا نعرہ، نیا چہرہ اور نیا فریب لے کر آتا ہے۔ کبھی اس فریب کا نام تبدیلی رکھ دیا جاتا ہے، کبھی جمہوریت، کبھی بھٹو ازم اور کبھی مہاجر شناخت۔ کراچی کو ہر بار نئی پیکنگ میں عوام کے سامنے رکھا جاتا ہے، مگر اندر سے مال وہی پرانا، بوسیدہ نکلتا ہے۔
اسی مستقل، بے رحم اور جوابدہی سے ماورا طاقت کو ہم قانون کی زبان میں اسٹیبلشمنٹ کہتے ہیں۔ یہ وہ طاقت ہے جو بظاہر معصوم بھیڑ دکھائی دیتی ہے مگر اندر سے خوفناک بھیڑیا ہے۔ سامنے آئے تو بے بس ریاست کا روپ دھار لیتی ہے اور پردے کے پیچھے ہو تو سیاہ و سفید کی مکمل مالک بن جاتی ہے۔ پیپلز پارٹی ہو، ایم کیو ایم ہو یا پی ٹی آئی، یہ جماعتیں اپنی جگہ بااختیار نہیں۔ یہ سب شطرنج کے مہرے ہیں اور مہرے اپنی مرضی سے نہیں چلتے، انہیں چلایا جاتا ہے۔ بساط کہیں اور بچھتی ہے، فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں، اور جب ایک مہرہ ناکارہ ہو جائے یا حد سے زیادہ جل جائے تو دوسرا آگے کر دیا جاتا ہے۔
کبھی ایم کیو ایم سامنے آتی ہے تو شہر لاشوں، بھتّے، آگ، دھماکوں اور خوف کے سائے میں ڈوب جاتا ہے۔ پھر ذرا وقفہ آتا ہے، منظر بدلا جاتا ہے اور پیپلز پارٹی کو آگے کر دیا جاتا ہے۔ نتیجہ زمین مافیا، غیر قانونی تعمیرات، ادارہ جاتی کرپشن اور مکمل بدانتظامی کی صورت میں نکلتا ہے۔ کہیں کہیں ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کو بھی حصہ دے دیا جاتا ہے تاکہ چہروں کی تبدیلی سے یہ تاثر قائم رہے کہ نظام بدل رہا ہے، حالانکہ حقیقت میں نظام وہی رہتا ہے۔ قابل اجمیری نے کہا تھا:
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
سانحات آسمان سے نہیں گرتے۔ انہیں برسوں کی غفلت، بدعنوانی، سرپرستی اور مجرمانہ خاموشی پروان چڑھاتی ہے۔ گل پلازہ ہو یا بلدیہ ٹاؤن، یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔ یہ حرص و ہوس کی وہ آگ ہے جو فائلوں میں دبی رہی، رشوت کی چنگاریوں سے سلگتی رہی اور ایک دن شعلہ بن کر انسانی جانیں نگل گئی۔ بدقسمت شہر کراچی میں عمارتیں بنتی نہیں، اْگائی جاتی ہیں۔ نہ قانونی نقشہ، نہ فائر ایگزٹ، نہ حفاظتی انتظامات۔ اجازت دینے والے افسر محفوظ رہتے ہیں، دستخط کرنے والے ریٹائر ہو جاتے ہیں، اور مرنے والوں کے حصے میں صرف قبرستان آتا ہے۔ یہاں انصاف بھی طبقاتی ہے۔ ایک طرف بیٹے کی کمپنی کو مستفید کرنے کے لیے ایک جج تعمیر شدہ پلازہ کو زمین بوس کروادیتا ہے، مگر دوسری جانب اسی شہر میں ہزاروں غیر قانونی عمارتیں اور انہیں اجازت دینے والے افسران ہمیشہ بھی قانون سے بالا رہتے ہیں۔ یہ اسی نظام کی شناخت ہے جو کمزور کے لیے قانون اور طاقتور کے لیے رعایت پیدا کرتا ہے۔ یہاں لاشوں کا گرنا ایسا معمول بن چکا ہے کہ اب اس شہر میں گورکن جذباتی نہیں ہوتا، کفن فروش نہیں روتا، کیونکہ موت اس شہر کی روزمرہ حقیقت بن چکی ہے۔ اور اس شہر میں ریاست شرمندہ نہیں ہوتی، کیونکہ وہ بے حسی کی آخری حد کو چھو چکی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کراچی کے عوام کہاں جائیں؟ کس سے فریاد کریں؟ کس دروازے پر انصاف مانگیں؟ عدالتیں مجرموں کا مؤثر محاسبہ نہیں کرتیں، اور جب عوام ووٹ کے ذریعے محاسبہ کرنا چاہتے ہیں تو نتائج بدل دیے جاتے ہیں۔ پیغام بالکل واضح ہے کہ فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔ اسی تناظر میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کا یہ سوال کہ ’’اسٹیبلشمنٹ کو صرف چور اور ڈاکو ہی کیوں پسند ہیں‘‘۔ صرف امیر جماعت کا سوال نہیں، یہ کراچی کے ساڑھے تین کروڑ شہریوں کا سوال ہے، بلکہ ملک کے پچیس کروڑ عوام کا بھی سوال ہے کہ آخر اسٹیبلشمنٹ سرکار کو صرف چور اور ڈاکو ہی کیوں پسند آتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن کے لہجے کی تلخی اور زبان کی سختی کو سمجھنا چاہیے۔ یہ تلخی نہ ان کی ذاتی ضد ہے اور نہ محض سیاسی حکمت عملی۔ یہ اس شہر کے ساڑھے تین کروڑ انسانوں کے دکھ، غم، غصے، لاچارگی اور بے بسی کی اجتماعی آواز ہے۔ یہ ان لوگوں کی چیخ ہے جو اپنا غصہ اور اپنی امید ووٹ کی صورت میں ڈالتے ہیں، مگر پھر دیکھتے ہیں کہ ان کا ووٹ چرا لیا گیا۔ اب اسٹیبلشمنٹ خود بتائے کہ وہ آخر کون سی زبان سمجھتی ہے۔ جب ووٹ بدلے جاتے ہوں، جب کمزور کچلے جاتے ہوں، جب انصاف کا راستہ بند کر دیا جاتا ہو، تو کیا وہ اس انتظار میں ہے کہ کراچی کی سڑکیں بھی ڈھاکا کا منظر پیش کریں؟ کیا تب اْس کے کانوں تک آواز پہنچے گی؟ کیا تب آنکھوں پر پڑا ہوا لالچ اور غفلت کا پردہ ہٹے گا؟ یا پھر حافظ نعیم کی آواز، ساڑھے تین کروڑ انسانوں کی آہیں، گل پلازہ کے متاثرین کی فریادیں اور شہداء کے ورثاء کی چیخیں ملک کے مالکان کو بیدار کرنے کے لیے کافی ہیں؟
اب اہل ِ کراچی سمیت ملک بھر کے عوام کو یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ مسئلہ صرف مہرے نہیں، اصل مسئلہ وہ ہاتھ ہیں جو مہرے چلاتے ہیں۔ جب تک اصل ڈاکو کو پہچانا نہیں جائے گا، کراچی جلتا رہے گا۔ یاد رکھیے، حادثہ اچانک نہیں ہوتا۔ یہ برسوں کی پرورش کا نتیجہ ہوتا ہے، اور ان حادثات کی پرورش اسٹیبلشمنٹ کی لیبارٹری میں کی جاتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی ایم کیو ایم دیا جاتا ہے نہیں ہوتا جاتے ہیں ہیں اور ہے اور کر دیا کے لیے
پڑھیں:
نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
گلگت (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمن، کاظم پیرزادہ بھی نواز شریف کے ہمراہ ہیں۔
گلگت پہنچنے پر وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام، سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان، کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر پارٹی رہنماؤں نے پارٹی صدر کا استقبال کیا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
نواز شریف پارٹی رہنماؤں اور گلگت بلتستان کے انتخابات میں حصہ لینے والے پارٹی ٹکٹ ہولڈرز سے ملاقاتیں کریں گے۔
مزید :