گلشن بہار میں ملزمان کی فائرنگ سے پولیس اہلکار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر)کراچی کے ضلع ویسٹ میں تھانہ پاکستان بازار کی حدود میں مسلح ملزمان کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی نے فوری طور پر جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے ہنگامی احکامات جاری کیے۔ پاکستان بازار تھانے کی حدود اورنگی ٹاؤن گلشن بہار تارہ مال کے علاقے میںنامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کر کے پولیس اہلکار محمد اویس ولد محمد اکمل کو زخمی کر دیا۔ زخمی اہلکار تھانہ نارتھ کراچی انڈسٹریل ایریا (NKIA) میں تعینات ہے ،پولیس جوان دو دن سے ڈیوٹی سے غیر حاضر تھا گھر کے باہر واقعہ پیش آیا،ابتدائی اطلاع ہے کے مضروب کو ڈکیتی مزاحمت پر گولی لگی۔ زخمی اہلکار کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی نے موقع پر موجود افسران کو ہدایات دیں کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔ ایس ایس پی ویسٹ کا کہنا تھا کہ “پولیس اہلکار پر حملہ کرنے والے قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے، ہم اپنے جوانوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ ایس ڈی پی او پاکستان بازار کی زیرِ نگرانی ایک خصوصی چھاپہ مار ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جو ملزمان کے ٹھکانوں پر چھاپے مار رہی ہے۔ ڈسٹرکٹ ویسٹ کی خصوصی ٹیکنیکل ٹیمیں بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہیں۔ یہ ٹیمیں جدید ترین جیو فینسنگ، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع استعمال کرتے ہوئے ملزمان کا سراغ لگا رہی ہیں۔ جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول اور دیگر شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں جنہیں فارنزک لیبارٹری بھیجا جا رہا ہے۔ایس ایس پی ویسٹ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ملزمان کی شناخت کا عمل جلد مکمل کر لیا جائے گا اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ علاقے میں پولیس کا گشت بڑھا دیا گیا ہے اور مشتبہ افراد کی چیکنگ جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایس ایس پی ویسٹ پولیس اہلکار ملزمان کی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔