ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 17, 17 سال قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
جج افضل مجوکہ نے فیصلہ سنایا، دونوں ملزمان پر تین کروڑ ساٹھ لاکھ کا جرمانہ عائد
دونوں پر الزام تھاسوشل میڈیاپرریاستی اداروں کیخلاف تضحیک آمیز زبان استعمال کی
اسلام آباد کی عدالت نے متنازع ٹوئٹ اور ریاست مخالف بیانیہ کے کیس میں معروف انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو 17, 17 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے کمرہ عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا سے متعلق مختصر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے پیکا ایکٹ کے تحت مختلف دفعات کے مطابق دونوں ملزمان کو سزا دی۔ سیکشن 9 کے تحت انہیں 5، 5 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ، سیکشن 10 کے تحت 10، 10 سال قید اور 3 کروڑ روپے جرمانہ جبکہ سیکشن 26 اے کے تحت 2، 2 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ سنایا گیا۔ ان تمام سزائوں کو جمع کرنے کے بعد عدالت نے ایمان مزاری اورہادی علی کو مجموعی طور پر 17،17 سال قید اور 3 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانے کی سزا عائد کی۔ تاہم پیکا کے سیکشن 11 کے تحت دونوں ملزمان کو بری بھی کیا گیا۔ دونوں پر الزام تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (ایکس؍ٹوئٹر) پر ریاستی اداروں کے خلاف تضحیک آمیز زبان استعمال کی اور عوام کو اشتعال دلانے کی کوشش کی۔یاد رہے اس سزا سے ایک روز قبل (23 جنوری کو) پولیس نے انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر سے گرفتار کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سال قید اور مزاری اور کے تحت کی سزا
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز