لاہور کے قدیم بازار لوہاری گیٹ کے ایک اسکول میں زوہیب حسن سارنگی کے تار چھیڑتے ہیں، جن کی دھن انسانی آواز سے مشابہ سوز و گداز بکھیر دیتی ہے اور گلیوں میں سننے والوں کے دلوں میں اتر جاتی ہے۔

زوہیب حسن کے مطابق پورے پاکستان کی قریباً 25 کروڑ آبادی میں صرف 4 سارنگی نواز موجود ہیں، اور وہ انہی میں سے ایک ہیں، جو لاہور میں بچوں کو یہ نایاب فن سکھانے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ سارنگی کے باقیات قائم رہ سکیں۔

مزید پڑھیں: آغاخان میوزک ایوارڈ جیتنے والے موسیقاروں کے ناموں کا اعلان، پاکستانی قوال استاد نصیر سامی بھی شامل

پاکستانی موسیقی کے منظرنامے میں انسانی آواز سے غیر معمولی مشابہت رکھنے والا یہ کلاسیکی ساز آہستہ آہستہ معدوم ہوتا جا رہا ہے، سوائے چند فنکاروں کے جو اس کی بقا کے لیے انتھک محنت کر رہے ہیں۔

زوہیب حسن نے بتایا کہ سارنگی بجانا انتہائی مشکل ہے، اس کی مرمت مہنگی ہے، اور مالی فوائد نہ ہونے کے باعث اس فن کی بقا کو یقینی بنانا آسان نہیں۔ ’ہم اپنی بدترین مالی حالت کے باوجود اس ساز کو زندہ رکھنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔‘

زوہیب حسن کے خاندان نے 7 نسلوں سے اس کمان دار، چھوٹی گردن والے ساز میں مہارت حاصل کی ہے اور پاکستان بھر میں ان کی فنی صلاحیتوں کے باعث انہیں بے حد احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ باقاعدگی سے ٹیلی ویژن، ریڈیو اور نجی تقریبات میں پرفارم کرتے ہیں۔

زوہیب حسن نے مزید کہاکہ میرے خاندان کے اس فن سے جنون نے مجھے سارنگی نواز بننے پر مجبور کیا، جس کے باعث میری تعلیم ادھوری رہ گئی۔ میں بمشکل گزارا کرتا ہوں کیونکہ زیادہ تر ہدایت کار جدید آرکسٹراز اور پاپ بینڈز کے ساتھ پروگرام ترتیب دیتے ہیں۔

روایتی ساز آج کے دور میں آر اینڈ بی اور پاپ موسیقی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے منظرنامے کا مقابلہ کررہے ہیں، جہاں 60 فیصد سے زیادہ آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے۔

سارنگی کو سترہویں صدی میں برصغیر کے مغل دور میں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں نمایاں مقام حاصل ہوا۔ پاکستان میں اس کے زوال کا آغاز 1980 کی دہائی میں ہوا، جب کئی عظیم سارنگی نواز اور کلاسیکی گلوکار دنیا سے رخصت ہو گئے۔

ایک امید کی کرن اس وقت پیدا ہوئی جب والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے سارنگی ٹریننگ اسکول قائم کیے اور زوہیب حسن کو بچوں کو یہ فن سکھانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔

مزید پڑھیں: چاہت فتح علی خان پاکستان کے کس شہر میں میوزک اکیڈمی کھولنے والے ہیں؟

بچے اس فن میں شدید دلچسپی ظاہر کرتے ہیں، داخلہ لیتے ہیں اور سیکھنے کا عمل شروع کر دیتے ہیں، لیکن فنڈز کی کمی کے باعث تربیت کے عمل میں رکاوٹ آ جاتی ہے۔

اس وقت پورے اسکول میں صرف ایک ہی سارنگی موجود ہے، اور ہر بچہ اسے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا، کیونکہ ایک سارنگی کی قیمت قریباً 2 لاکھ روپے ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews زوہیب حسن سارنگی ساز لوہاری گیٹ نایاب فن وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: زوہیب حسن سارنگی ساز نایاب فن وی نیوز زوہیب حسن کے باعث

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا