ہزاروں سال کی روایت، چند نسلوں کا فخر، سارنگی کی دھنیں سنبھالنے والا لاہور کا واحد استاد
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
لاہور کے قدیم بازار لوہاری گیٹ کے ایک اسکول میں زوہیب حسن سارنگی کے تار چھیڑتے ہیں، جن کی دھن انسانی آواز سے مشابہ سوز و گداز بکھیر دیتی ہے اور گلیوں میں سننے والوں کے دلوں میں اتر جاتی ہے۔
زوہیب حسن کے مطابق پورے پاکستان کی قریباً 25 کروڑ آبادی میں صرف 4 سارنگی نواز موجود ہیں، اور وہ انہی میں سے ایک ہیں، جو لاہور میں بچوں کو یہ نایاب فن سکھانے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ سارنگی کے باقیات قائم رہ سکیں۔
مزید پڑھیں: آغاخان میوزک ایوارڈ جیتنے والے موسیقاروں کے ناموں کا اعلان، پاکستانی قوال استاد نصیر سامی بھی شامل
پاکستانی موسیقی کے منظرنامے میں انسانی آواز سے غیر معمولی مشابہت رکھنے والا یہ کلاسیکی ساز آہستہ آہستہ معدوم ہوتا جا رہا ہے، سوائے چند فنکاروں کے جو اس کی بقا کے لیے انتھک محنت کر رہے ہیں۔
زوہیب حسن نے بتایا کہ سارنگی بجانا انتہائی مشکل ہے، اس کی مرمت مہنگی ہے، اور مالی فوائد نہ ہونے کے باعث اس فن کی بقا کو یقینی بنانا آسان نہیں۔ ’ہم اپنی بدترین مالی حالت کے باوجود اس ساز کو زندہ رکھنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔‘
زوہیب حسن کے خاندان نے 7 نسلوں سے اس کمان دار، چھوٹی گردن والے ساز میں مہارت حاصل کی ہے اور پاکستان بھر میں ان کی فنی صلاحیتوں کے باعث انہیں بے حد احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ باقاعدگی سے ٹیلی ویژن، ریڈیو اور نجی تقریبات میں پرفارم کرتے ہیں۔
زوہیب حسن نے مزید کہاکہ میرے خاندان کے اس فن سے جنون نے مجھے سارنگی نواز بننے پر مجبور کیا، جس کے باعث میری تعلیم ادھوری رہ گئی۔ میں بمشکل گزارا کرتا ہوں کیونکہ زیادہ تر ہدایت کار جدید آرکسٹراز اور پاپ بینڈز کے ساتھ پروگرام ترتیب دیتے ہیں۔
روایتی ساز آج کے دور میں آر اینڈ بی اور پاپ موسیقی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے منظرنامے کا مقابلہ کررہے ہیں، جہاں 60 فیصد سے زیادہ آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے۔
سارنگی کو سترہویں صدی میں برصغیر کے مغل دور میں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں نمایاں مقام حاصل ہوا۔ پاکستان میں اس کے زوال کا آغاز 1980 کی دہائی میں ہوا، جب کئی عظیم سارنگی نواز اور کلاسیکی گلوکار دنیا سے رخصت ہو گئے۔
ایک امید کی کرن اس وقت پیدا ہوئی جب والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے سارنگی ٹریننگ اسکول قائم کیے اور زوہیب حسن کو بچوں کو یہ فن سکھانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
مزید پڑھیں: چاہت فتح علی خان پاکستان کے کس شہر میں میوزک اکیڈمی کھولنے والے ہیں؟
بچے اس فن میں شدید دلچسپی ظاہر کرتے ہیں، داخلہ لیتے ہیں اور سیکھنے کا عمل شروع کر دیتے ہیں، لیکن فنڈز کی کمی کے باعث تربیت کے عمل میں رکاوٹ آ جاتی ہے۔
اس وقت پورے اسکول میں صرف ایک ہی سارنگی موجود ہے، اور ہر بچہ اسے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا، کیونکہ ایک سارنگی کی قیمت قریباً 2 لاکھ روپے ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews زوہیب حسن سارنگی ساز لوہاری گیٹ نایاب فن وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: زوہیب حسن سارنگی ساز نایاب فن وی نیوز زوہیب حسن کے باعث
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔