روس میں آسمان پر ایک ساتھ 2 سورج نظر آنے کا انوکھا منظر مگر ایسا ہوتا کیوں ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
روس کے سخالین ریجن کے مکین اس وقت حیران رہ گئے جب انہوں نے صبح کے وقت آسمان پر ایک سے زیادہ سورج طلوع ہوتے ہوئے دیکھے۔ اس حیرت انگیز منظر کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئیں۔
تاہم یہ کوئی فلکیاتی واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک نایاب ماحولیاتی مظہر تھا، جسے سائنسی زبان میں سن ڈاگ (Sundog) یا پارہیلین (Parhelion) کہا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خلائی دنیا کی ملکہ سنیتا ولیمز 608 دن خلا میں گزارنے کے بعد ریٹائر ہوگئیں
سن ڈاگ کیا ہوتا ہے؟سن ڈاگ ایک فضائی بصری مظہر ہے اور اسے برفانی ہالہ (Ice Halo) کی ایک قسم سمجھا جاتا ہے۔ یہ اس وقت بنتا ہے جب سورج کی روشنی فضا میں موجود برف کے چھوٹے کرسٹلوں کے ایک رخ سے داخل ہو کر دوسرے رخ سے تقریباً 60 درجے کے زاویے پر خارج ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں سورج کے اطراف روشن دھبے نمودار ہوتے ہیں۔
ناسا کے مطابق سن ڈاگز عموماً اس وقت زیادہ واضح دکھائی دیتے ہیں جب سورج افق کے قریب ہوتا ہے، جیسے صبح یا شام کے وقت۔ یہ سورج کے دائیں اور بائیں جانب تقریباً 22 درجے کے فاصلے پر نظر آتے ہیں۔ سن ڈاگ کا وہ حصہ جو سورج کے قریب ہوتا ہے سرخی مائل ہوتا ہے، جبکہ اس سے دور سبز اور نیلے رنگ نمایاں ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سائنسدانوں نے رحم کے کینسر پر قابو پانے کا اہم عنصر دریافت کرلیا
ماہرین کے مطابق سن ڈاگز دنیا کے کسی بھی حصے میں، سال کے کسی بھی موسم میں دیکھے جا سکتے ہیں، چاہے زمین کی سطح پر درجہ حرارت کچھ بھی ہو۔
اس سے قبل 2020 میں چین کے شہر موہے میں لوگوں نے آسمان پر 3 سورج دیکھنے کا دعویٰ کیا تھا، جو اسی مظہر کا نتیجہ تھا۔ اس سے پہلے شمالی چین کے علاقے اندرونی منگولیا میں لوگوں نے آسمان پر 5 سورج دیکھنے کی اطلاع دی تھی۔
یہ نایاب مظاہر فطرت کے حیرت انگیز بصری کرشموں میں سے ایک ہیں، جو دیکھنے والوں کو دنگ کر دیتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خلا خلائی سائنس سائنس سورج.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خلا خلائی سائنس ہوتا ہے سن ڈاگ
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔