لاہور میں غیر قانونی طور پر پالتو شیروں کا خطرناک رجحان ایک بار پھر جان لیوا ثابت ہوا ہے۔ ایک ہی ہفتے کے دوران کمسن بچوں پر شیر کے حملے کا دوسرا واقعہ سامنے آگیا، جس نے شہریوں کے تحفظ اور انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اٹلی: سرکس کے دوران شیر کا مداری پر حملہ

میڈیا رپورٹ کے مطابق تازہ واقعہ لاہور کے علاقے سبزہ زار میں پیش آیا جہاں ایک فارم ہاؤس میں رکھے گئے پالتو شیر نے 8 سالہ بچے پر حملہ کر دیا۔ متاثرہ بچہ واجد علی کھیلتے ہوئے شیر کے پنجرے کے قریب جا پہنچا، اسی دوران شیر نے اچانک حملہ کر کے اس کے بازو کو بری طرح زخمی کر دیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور بچے کو فوری طور پر گنگا رام اسپتال منتقل کیا گیا۔

گنگا رام اسپتال کے ترجمان کے مطابق بچے کی حالت انتہائی تشویشناک تھی اور جان بچانے کے لیے ڈاکٹروں کو اس کا بازو کاٹنا پڑا۔ طبی عملے کا کہنا ہے کہ سرجری کے بعد بچے کی حالت پہلے سے بہتر ہے تاہم اسے طویل علاج کی ضرورت ہوگی۔

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے فارم ہاؤس کے مالکان عمر اقبال اور علی اقبال کو گرفتار کر لیا ہے۔ ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ شیر کا پنجرہ غیر محفوظ تھا اور مالکان کے پاس شیر پالنے کا کوئی لائسنس موجود نہیں تھا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ واضح طور پر مالکان کی غفلت اور قانون کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بشارالاسد مخالف قیدی اپنے پالتو شیروں کو کھلانے والے سفاک فوجی کو سرعام پھانسی دیدی گئی

واضح رہے کہ چند روز قبل بھی لاہور میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا جب ایک شیرنی کو ایک گاڑی سے دوسری گاڑی میں منتقل کیا جا رہا تھا اور اس دوران اس نے 8 سالہ بچی پر حملہ کر کے اسے زخمی کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد کی گئی تفتیش میں لاہور پولیس نے غیر قانونی طور پر رکھے گئے مزید 11 شیر بازیاب کیے تھے، جن میں 5 شیرنیاں، 3 شیر اور 3 شیر کے بچے شامل تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ببر شیر پالتو شیر سبزہ زار شیر کا حملہ لاہور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پالتو شیر شیر کا حملہ لاہور

پڑھیں:

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک

فائل فوٹو۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ 

مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟