لاہور میں پالتو شیروں کی دہشت، ایک ہفتے میں دوسرا کمسن بچہ حملے کا شکار، بازو کاٹنا پڑ گیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
لاہور میں غیر قانونی طور پر پالتو شیروں کا خطرناک رجحان ایک بار پھر جان لیوا ثابت ہوا ہے۔ ایک ہی ہفتے کے دوران کمسن بچوں پر شیر کے حملے کا دوسرا واقعہ سامنے آگیا، جس نے شہریوں کے تحفظ اور انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اٹلی: سرکس کے دوران شیر کا مداری پر حملہ
میڈیا رپورٹ کے مطابق تازہ واقعہ لاہور کے علاقے سبزہ زار میں پیش آیا جہاں ایک فارم ہاؤس میں رکھے گئے پالتو شیر نے 8 سالہ بچے پر حملہ کر دیا۔ متاثرہ بچہ واجد علی کھیلتے ہوئے شیر کے پنجرے کے قریب جا پہنچا، اسی دوران شیر نے اچانک حملہ کر کے اس کے بازو کو بری طرح زخمی کر دیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور بچے کو فوری طور پر گنگا رام اسپتال منتقل کیا گیا۔
گنگا رام اسپتال کے ترجمان کے مطابق بچے کی حالت انتہائی تشویشناک تھی اور جان بچانے کے لیے ڈاکٹروں کو اس کا بازو کاٹنا پڑا۔ طبی عملے کا کہنا ہے کہ سرجری کے بعد بچے کی حالت پہلے سے بہتر ہے تاہم اسے طویل علاج کی ضرورت ہوگی۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے فارم ہاؤس کے مالکان عمر اقبال اور علی اقبال کو گرفتار کر لیا ہے۔ ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ شیر کا پنجرہ غیر محفوظ تھا اور مالکان کے پاس شیر پالنے کا کوئی لائسنس موجود نہیں تھا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ واضح طور پر مالکان کی غفلت اور قانون کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بشارالاسد مخالف قیدی اپنے پالتو شیروں کو کھلانے والے سفاک فوجی کو سرعام پھانسی دیدی گئی
واضح رہے کہ چند روز قبل بھی لاہور میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا جب ایک شیرنی کو ایک گاڑی سے دوسری گاڑی میں منتقل کیا جا رہا تھا اور اس دوران اس نے 8 سالہ بچی پر حملہ کر کے اسے زخمی کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد کی گئی تفتیش میں لاہور پولیس نے غیر قانونی طور پر رکھے گئے مزید 11 شیر بازیاب کیے تھے، جن میں 5 شیرنیاں، 3 شیر اور 3 شیر کے بچے شامل تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ببر شیر پالتو شیر سبزہ زار شیر کا حملہ لاہور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پالتو شیر شیر کا حملہ لاہور
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔