ملک کے بالائی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ تھم گیا، سڑکوں پر کئی کئی فٹ برف موجود، ریسکیو آپریشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ملک کے بالائی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ وقتی طور پر رک گیا ہے، تاہم گزشتہ چند روز سے وقفے وقفے سے ہونے والی برف باری کے باعث سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔
کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کئی فٹ برف جمع ہے، جس کے باعث متعدد رابطہ سڑکیں تاحال بند ہیں۔
اپر ہزارہ ڈویژن کے تمام اضلاع میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ کاغان شہر تک سڑک کلیئر کر دی گئی ہے جبکہ شوگران میں پھنسے سیاحوں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے۔
کالام، ملم جبہ اور گبین جبہ میں برف ہٹانے کا عمل جاری ہے۔ اسی طرح لوئر دیر اور کرم میں بھی ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے، جہاں برف میں پھنسی متعدد گاڑیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب استور میں شدید برف باری کے بعد نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے اور استور ویلی روڈ تاحال بحال نہیں ہو سکا۔ ہنزہ کے زلزلہ متاثرہ علاقے چیپورسن میں تیز ہواؤں اور شدید سردی کے باعث متاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے، جس کے باعث کئی خاندان دیگر علاقوں کو منتقل ہو گئے ہیں۔
شمالی بلوچستان اور بالائی سرحدی علاقوں میں سائبیرین ہواؤں کے باعث ریکارڈ توڑ سردی پڑ رہی ہے، جس سے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو گئے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں آج سے بارشوں اور برف باری کے نئے سلسلے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علاقوں میں کے باعث گیا ہے
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔