جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی ڈرون حملے میں دو بچوں سمیت 3 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ڈرون حملوں میں تین فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں دو کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے ہفتے کے روز شمالی غزہ میں مختلف مقامات پر کیے گئے۔
سول ڈیفنس کے مطابق ایک اسرائیلی ڈرون حملہ بیت لاہیا میں کمال عدوان اسپتال کے قریب کیا گیا، جس کے نتیجے میں دو فلسطینی لڑکے جاں بحق ہو گئے۔ الشفا اسپتال نے تصدیق کی ہے کہ جاں بحق ہونے والوں کی عمریں 13 اور 15 سال تھیں۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں لڑکوں نے اس کے اہلکاروں کے لیے فوری خطرہ پیدا کیا تھا۔
ایک الگ واقعے میں شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ میں اسرائیلی کوآڈ کاپٹر ڈرون نے شہریوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک اور فلسطینی جاں بحق ہو گیا۔ اس واقعے میں جاں بحق شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
مزید پڑھیںغزہ پیس بورڈ میں فلسطینیوں کی نمائندگی نہیں، حکومت کا شمولیت کا فیصلہ نہیں مانتے، نعیم الرحمان
غزہ پر اختیار صرف فلسطینیوں کا ہے؛ اسپین کا ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت سے انکار
حکومت غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ واپس لے اور عوامی ریفرنڈم کروائے، پی ٹی آئی
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک کم از کم 477 فلسطینی اسرائیلی کارروائیوں میں شہید ہو چکے ہیں، تاہم اسرائیلی میڈیا پابندیوں کے باعث ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔
ادھر، امریکی ذرائع کے مطابق امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اسرائیل میں موجود ہیں جہاں وہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں غزہ کی صورتحال اور امریکا کے مجوزہ ’نیو غزہ‘ منصوبے پر بات چیت متوقع ہے۔
دوسری جانب امریکی حکومت نے اٹلی سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کے لیے مجوزہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں بانی رکن کے طور پر شامل ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس