جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی ڈرون حملے میں دو بچوں سمیت 3 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی ڈرون حملے میں دو بچوں سمیت 3 فلسطینی شہید WhatsAppFacebookTwitter 0 25 January, 2026 سب نیوز
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ڈرون حملوں میں تین فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں دو کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے ہفتے کے روز شمالی غزہ میں مختلف مقامات پر کیے گئے۔
سول ڈیفنس کے مطابق ایک اسرائیلی ڈرون حملہ بیت لاہیا میں کمال عدوان اسپتال کے قریب کیا گیا، جس کے نتیجے میں دو فلسطینی لڑکے جاں بحق ہو گئے۔ الشفا اسپتال نے تصدیق کی ہے کہ جاں بحق ہونے والوں کی عمریں 13 اور 15 سال تھیں۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں لڑکوں نے اس کے اہلکاروں کے لیے فوری خطرہ پیدا کیا تھا۔
ایک الگ واقعے میں شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ میں اسرائیلی کوآڈ کاپٹر ڈرون نے شہریوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک اور فلسطینی جاں بحق ہو گیا۔ اس واقعے میں جاں بحق شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک کم از کم 477 فلسطینی اسرائیلی کارروائیوں میں شہید ہو چکے ہیں، تاہم اسرائیلی میڈیا پابندیوں کے باعث ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔
ادھر، امریکی ذرائع کے مطابق امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اسرائیل میں موجود ہیں جہاں وہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں غزہ کی صورتحال اور امریکا کے مجوزہ ’نیو غزہ‘ منصوبے پر بات چیت متوقع ہے۔
دوسری جانب امریکی حکومت نے اٹلی سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کے لیے مجوزہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں بانی رکن کے طور پر شامل ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران پر ممکنہ حملہ، مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج تعینات، تہران میں ہائی الرٹ ایران پر ممکنہ حملہ، مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج تعینات، تہران میں ہائی الرٹ چین سے تجارتی معاہدہ کیا تو اشیا پر 100 فیصد ٹیرف لگے گا، ٹرمپ کی کینیڈا کو دھمکی امریکی حملے کا خطرہ ، سپریم لیڈر خامنہ ای خصوصی زیر زمین پناہ گاہ منتقل ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ، آئی سی سی کا بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کا فیصلہ وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر کی ملاقات، جعلی ویزا نیٹ ورکس پر مشترکہ کارروائی پر اتفاق ٹرمپ کی 2025 کی ملک بدری مہم، سرکاری دعووں اور آزاد جانچ کے درمیان تضادCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسرائیلی ڈرون
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔