کابینہ نے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا اختیار دیا، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
لندن میں ہائی کمیشن سے روانگی کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں وزیراعظم نے کہا کہ امید ہے بورڈ آف پیس کے بعد غزہ میں جلد امن قائم ہوگا اور فلسطینیوں کو عزت و وقار کے ساتھ اُن کے حقوق ملیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی گئی جس پر کابینہ نے شمولیت کا اختیار دیا۔ لندن میں ہائی کمیشن سے روانگی کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی پھر اس معاملے کو کابینہ میں رکھا گیا تو کابینہ نے شمولیت کا اختیار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے بورڈ آف پیس کے بعد غزہ میں جلد امن قائم ہوگا اور فلسطینیوں کو عزت و وقار کے ساتھ اُن کے حقوق ملیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ڈیووس کا دورہ انتہائی اچھا رہا، ٹرمپ نے پاکستان کیلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا جبکہ میں نے جنگ رکوانے پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ ملاقات شاندار رہی اور انہوں نے پاکستان کی معاشی اصلاحات کو سراہا ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی پاکستان ہائی کمیشن آمد ہوئی جہاں اُن کے ساتھ کرپٹو کونسل پاکستان کے سی ای او بلال بن ثاقب بھی تھے۔ ہائی کمیشن میں بزنس کمیونٹی اورڈیجیٹل کرنسی اور بلاک چین کے ماہرین سے وزیراعظم اور بلال بن ثاقب کی میٹنگ ہوئی، سابق ایم پی اے ڈاکٹر اشرف چوہان بھی میٹنگ کا حصہ تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بورڈ ا ف پیس ہائی کمیشن نے کہا کہ کے ساتھ کے بعد
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔