محکمہ جنگلات پنجاب کی پرندوں غیرقانونی اسمگلنگ میں ملوث مافیا کے خلاف کارروائی
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
محکمہ جنگلات پنجاب نے نایاب پرندوں اور پاڑہ ہرن کے گوشت کی غیرقانونی اسمگلنگ میں ملوث مافیا کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 44 بطخیں برآمد کرلی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات کے عملے نے خفیہ اطلاع پر کارروائی میں ہنس نسل کی 44 بطخیں برآمد کرلیں۔
وزیراعلی مریم نوازشریف کی ہدایت پر سائیبریا سے ہجرت کرنے والے آبی پرندے ’بارہیڈڈ گیز‘ کل آزاد کئے جائیں گے۔ 44 ’بارہیڈڈ گیزکو کالا خطائی کے نیشنل پارک سے فضا میں چھوڑا جائے گا۔
محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات کی ٹیم کی پرندوں کے معائینہ کے بعد جاری کردہ رپورٹ بتاتی ہے کہ تمام پرندے نہایت صحت مند ہیں۔
غیرقانونی دھندے میں ملوث دو ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔ کارروائی پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ2025کی خلاف ورزی پر کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محکمہ جنگلات
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔