صدر مادورو کی گرفتاری کے وقت کونسا خفیہ امریکی ہتھیار استعمال ہوا؟ ڈونلڈ ٹرمپ نے تفصیل بتا دی
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے دوران استعمال ہونے والے خفیہ امریکی ہتھیار کا نام بتا دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا کے حکام کے پاس روس اور چین کے راکٹ موجود تھے، لیکن امریکی ہتھیار کے استعمال کے بعد وہ سب ناکام ہو گئے اور کسی بھی قسم کے حملے میں کام نہیں آئے۔
یہ بھی پڑھیے: نکولس مادورو کی برطرفی کے بعد وینزویلا کے تارکین وطن واپسی پر غور کرنے لگے
امریکی اخبار سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس خفیہ ہتھیار کو Discombobulator کہا جاتا ہے، اور اسی کے ذریعے 3 جنوری کو کاراکاس میں امریکی فوج نے وینزویلا کے دفاعی نظام کو جام کر دیا، اس کارروائی کے نتیجے میں مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکہ منتقل کیا گیا۔
امریکی صدر نے اس سے پہلے اس ٹیکنالوجی کو ‘خفیہ صوتی ہتھیار’ قرار دیا تھا جو ‘کسی اور کے پاس نہیں۔’
اس ڈیوائس کے بارے میں دعوے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں سامنے آئے، جس کا حوالہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کارولائن لیوٹ نے دیا۔ پوسٹ میں ایک نام نہ ظاہر کرنے والے وینزویلا کے سیکیورٹی اہلکار نے حملے کا بیان دیا۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا نے وینزویلا سے منسلک ساتواں تیل بردار جہاز تحویل میں لے لیا
اس اہلکار نے دعویٰ کیا کہ اچانک تمام ریڈار سسٹمز بند ہو گئے اور اس نے ایک شدید صوتی لہر محسوس کی جس کی وجہ سے اس کا سر پھٹنے والا محسوس ہوا۔
واضح رہے کہ 3 جنوری کو امریکی فوج نے وینزویلا میں بڑے پیمانے پر کارروائی کی تھی جس میں صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہتھیار وینزویلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہتھیار وینزویلا نے وینزویلا وینزویلا کے
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔