امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے دوران استعمال ہونے والے خفیہ امریکی ہتھیار کا نام بتا دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا کے حکام کے پاس روس اور چین کے راکٹ موجود تھے، لیکن امریکی ہتھیار کے استعمال کے بعد وہ سب ناکام ہو گئے اور کسی بھی قسم کے حملے میں کام نہیں آئے۔

یہ بھی پڑھیے: نکولس مادورو کی برطرفی کے بعد وینزویلا کے تارکین وطن واپسی پر غور کرنے لگے

امریکی اخبار سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس خفیہ ہتھیار کو Discombobulator کہا جاتا ہے، اور اسی کے ذریعے 3 جنوری کو کاراکاس میں امریکی فوج نے وینزویلا کے دفاعی نظام کو جام کر دیا، اس کارروائی کے نتیجے میں مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکہ منتقل کیا گیا۔

امریکی صدر نے اس سے پہلے اس ٹیکنالوجی کو ‘خفیہ صوتی ہتھیار’ قرار دیا تھا جو ‘کسی اور کے پاس نہیں۔’

اس ڈیوائس کے بارے میں دعوے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں سامنے آئے، جس کا حوالہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کارولائن لیوٹ نے دیا۔ پوسٹ میں ایک نام نہ ظاہر کرنے والے وینزویلا کے سیکیورٹی اہلکار نے حملے کا بیان دیا۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا نے وینزویلا سے منسلک ساتواں تیل بردار جہاز تحویل میں لے لیا

اس اہلکار نے دعویٰ کیا کہ اچانک تمام ریڈار سسٹمز بند ہو گئے اور اس نے ایک شدید صوتی لہر محسوس کی جس کی وجہ سے اس کا سر پھٹنے والا محسوس ہوا۔

واضح رہے کہ 3 جنوری کو امریکی فوج نے وینزویلا میں بڑے پیمانے پر کارروائی کی تھی جس میں صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہتھیار وینزویلا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہتھیار وینزویلا نے وینزویلا وینزویلا کے

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان