معذوری کا بہانہ کر کے قید سے بچنے والا مجرم باکسنگ لڑتے پکڑا گیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
لندن (ویب ڈیسک) برطانیہ میں معذوری کا بہانہ کر کے قید سے بچنے والا مجرم ایک باکسنگ مقابلے میں لڑتے ہوئے پھر سے پکڑا گیا۔
خبر رساں ادارے کے مطابق کارڈف سے تعلق رکھنے والا غیر قانونی طریقے سے کتوں کی برِیڈنگ کروانے والے 31 سالہ اینٹن بوسٹن کرونز بیماری میں مبتلا ہونے کا بہانہ بنا کر جیل جانے سے بچا ہوا تھا، ملزم نے
2020ء میں ملزم نے 6 کتوں کے کان کاٹنے کے جرم کا اعتراف کیا تھا، مجرم کو حال ہی میں ایک جج نے رحم کرتے ہوئے جیل سے باہر نکالا تھا، تاہم اس کے بعد بھی اس کا غیر قانونی کام جاری رہا اور اس کو اس دوران ایک باکسنگ مقابلے میں لڑتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
پراسیکیوٹنگ وکیل لی رینلڈز نے عدالت کو بتایا کہ مجرم نے جیسا خود کو معذور پیش کیا تھا باکسنگ وہ اس سے بالکل الگ دِکھائی دیے، دوسری جانب مجرم کے پڑوسیوں نے اس کے گھر سے بدبو آنے کی وجہ سے پولیس کو بلا کر شکایت کی تھی، جس پر پراسیکیوٹرز نے بوسٹن پر جانوروں کو خراب حالت میں رکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔
عدالت نے اینٹن بوسٹن پر 3 سال کی قید اور 15 برس تک کتے پالنے پر پابندی کی سزا سنائی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک