جانوروں کی دنیا میں آمریت سے انسان کیا سیکھ سکتا ہے؟ سائنسدانوں نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
جانوروں کی دنیا میں بھی بعض معاشرے سخت آمریت کے تحت چلتے ہیں، جبکہ کچھ قدرتی طور پر برابری اور تعاون پر قائم ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان سماجی ڈھانچوں سے انسان اپنے لیے اہم اسباق حاصل کر سکتا ہے۔
1950 کی دہائی میں برطانیہ کے ماہرِ ماحولیات پیٹر کروکرافٹ نے چوہوں پر تحقیق کے دوران ایک چوہے ‘بل’ کا مشاہدہ کیا، جو اپنے ساتھیوں پر جارحانہ غلبہ حاصل کر کے ایک ظالم حکمران بن گیا۔ بل نے نہ صرف دوسرے چوہوں کو شکست دی بلکہ خوراک اور وسائل پر بھی مکمل کنٹرول قائم رکھا۔ کروکرافٹ نے بعد میں لکھا کہ چوہوں کے رویے دیکھ کر انہیں انسانی معاشروں کی جھلک نظر آئی۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور چڑیا گھر میں 5 برس کے دوران 70 قیمتی جانور اور پرندے ہلاک ہونے کا انکشاف
تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ بابون، بینڈڈ منگوز، نیوڈ مول ریٹس اور دیگر کئی جانور ایسے سماجی نظام میں رہتے ہیں جہاں طاقت چند افراد کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ان معاشروں میں طاقتور افراد کو زیادہ خوراک، بہتر افزائش کے مواقع اور فیصلوں پر اثر و رسوخ حاصل ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کمزور افراد کے پاس فرار کا کوئی راستہ نہ ہو تو آمریت مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔
تاہم ہر جانوروں کا معاشرہ ایسا نہیں۔ برازیل میں پائے جانے والے نارتھرن مُوریقی بندر دنیا کے سب سے پُرامن جانوروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے معاشرے میں نہ کوئی ظالم رہنما ہے اور نہ شدید جھگڑے۔ خوراک اور وسائل صبر اور برداشت کے ساتھ تقسیم کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: چترال میں شکار اور جانوروں کے مناظر پر مبنی قدیم ترین چٹانی نقوش دریافت
سائنس دانوں کے مطابق وسائل کی غیر مساوی تقسیم، جینیاتی عوامل اور ماحول آمریت کے ابھرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جانوروں کے یہ مشاہدات انسانوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ تعاون، برابری اور برداشت وہ راستہ ہے جو کسی بھی معاشرے کو پائیدار اور مضبوط بنا سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمریت جانور معاشرہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آمریت
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں