وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبے بنانے پر کوئی آئینی یا سیاسی اعتراض نہیں ہونا چاہیے، تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب تک اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جاتے، گورننس کا نظام مؤثر طور پر کام نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط لوکل گورنمنٹ نظام کے بغیر ریاستی ڈھانچہ کمزور ہی رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کے پی حکومت کا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کوئی عملی کردار نظر نہیں آتا، وزیر دفاع خواجہ آصف

لاہور میں ایک نجی یونیورسٹی کے زیر اہتمام 3 روزہ تھنک فیسٹ کے دوسرے روز ’تاریخی اور تقابلی تناظر میں عالمی عدم مساوات‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے ٹیکس وصولی میں بہتری آئے گی اور ریاستی وسائل میں اضافہ ممکن ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقی یافتہ ریاستوں کی بنیاد مضبوط مقامی حکومتوں پر ہوتی ہے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ سیاسی برادری لوکل گورنمنٹ نظام سے اس قدر خوفزدہ کیوں نظر آتی ہے، حالانکہ جمہوریت کی اصل روح عوام کو براہِ راست اختیارات دینا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ذاتی و جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں فیصلے کرنا ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:18ویں ترمیم کے وقت اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا، خواجہ آصف

خواجہ آصف نے یاد دلایا کہ 18ویں آئینی ترمیم میں سب سے بڑا اور بنیادی نعرہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی تھا، تاہم اس پر عملدرآمد تاحال مکمل نہیں ہو سکا، جس کے باعث انتظامی اور معاشی مسائل جوں کے توں ہیں۔

اسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ ملک کی معاشی بہتری کے لیے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایکسپورٹ لیڈ اکانومی کے بغیر پاکستان کا معاشی نظام پائیدار بنیادوں پر استوار نہیں ہو سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

خواجہ آصف نئے صوبے وزیر دفاع.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خواجہ ا صف وزیر دفاع نچلی سطح تک وزیر دفاع خواجہ آصف

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم