نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف
لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو فلاں سیاسی جماعت آجائے گی،تین بڑے ڈکٹیٹروں نے لوکل گورنمنٹ کا سہارا لیا، گفتگو
وزیردفاع خواجہ آصف نے ملک میں نئے صوبے بنانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبوں میں کوئی حرج نہیں ہے اور کسی کو اس سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔لاہور میں تھنک فیسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ نئے صوبوں میں کوئی حرج نہیں ہے کسی کو اس سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے، 27 ویں ترمیم میں دو چیزیں ڈراپ کی گئیں، ایک لوکل گورنمنٹ کی تھی جس پر کافی اعتراضات تھے۔انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کو اپنے لیے خطرہ سمجھنے کے بجائے نرسری کی طرح سمجھیں، نیویارک کے میٔر ممدانی کو ساری دنیا جانتی ہے اور یہ سب سے بڑی مثال ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بقا لوکل گورنمنٹ میں ہے، جب اختیارات نچلی سطح پر نہیں لے کر جائیں گے تو وہ عوام کیساتھ دھوکا کے مترادف ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ 18ویں ترمیم نے ڈویلیشن گارنٹی کی لیکن یہ کبھی نہیں ہوسکا، اسی لیے میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلا کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا۔انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں نے اگر اپنی پاور انڈر رائٹ کرانی ہے تو جو پاکستانی گلی محلے میں 25کروڑ پاکستانی ہے اس سے توثیق کرائے، ایک آزمودہ نسخہ ہے تینوں بڑے ڈکٹیٹروں نے لوکل گورنمنٹ کا سہارا لیا۔ان کا کہنا تھا کہ کسی سیاستدان کو 9،9 سال نہیں ملے لیکن ڈکٹیٹرلے گئے، اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے اختیارات کسی طرح لوکل گورنمنٹ کے ذریعے نیچے تک پہنچایا، ہم نے عام آدمی کو کبھی یہ محسوس ہی نہیں ہونے دیا کہ میں اس ملک کا حصہ ہوں۔وزیردفاع نے کہا کہ ہماری موجودہ پارلیمنٹ میں زیادہ تر لوگوں نے جنرل ضیا کی لوکل گورنمنٹ سے گریجویٹ کیا ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لوکل گورنمنٹ سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں ہے، اگر خطرہ ہے تو صرف بیوروکریسی کو ہے کیونکہ اس کے اختیارات کم ہوکر لوکل گورنمنٹ کو ملیں گے لیکن پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں کہ یہ ہوگیا تو فلاں سیاسی جماعت آجائے گی۔خواجہ آصف نے کہا کہ قومی سلیبس کی بات بھی 27 ویں ترمیم میں ڈراپ کی گئی، اج جو بحث ہو رہی ہے اللہ کرے اس کا نتیجہ نکلے اور ہم نے جو دو شقیں ڈراپ کی ہیں آئینی ترمیم میں وہ بھی شامل ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: لوکل گورنمنٹ خواجہ ا صف نے سے خوف زدہ کسی کو
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔