سرگودھا میں 26 سالہ سکیورٹی گارڈ کی خودکشی
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
پنجاب کے علاقے سرکودھا میں 26 سالہ سکیورٹی گارڈ نے اپنے اپ کو گولی مار کر خود کشی کر لی۔ریسکیوکے مطابق ارسلان سرگودھا 47 پل پر قائم مٹھائی کی دکان پر بطور گارڈ ملازم تھا، ارسلان نے اپنے اپ کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کیا جبکہ خودکشی کا واقعہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے کنفرم ہوا۔پولیس کا کہنا ہے لاش ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر کے مزید چھان بین شروع کر دی گئی ہے جبکہ خودکشی کرنے والے نوجوان کا تعلق جناح کالونی گلی نمبر 5 سے ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔