پاکستان میں کسٹمز ویلیو ٹیکس میں کمی کے بعد موبائل فونز کی قیمتوں میں کتنی کمی ہوگی؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
وفاقی بورڈ آف ریونیو کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن کے مطابق 62 مختلف ماڈلز کے پرانے اور استعمال شدہ موبائل فونز کی کسٹمز ویلیوز کو اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزارت داخلہ کو ٹیکس نادہندگان کو اسلحہ لائسنس جاری نہ کرنے کی ہدایت
واضح رہے کہ اس اقدام سے موبائل فونز کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے، جبکہ قیمتوں میں کمی کے نتیجے میں موبائل فونز پر عائد پی ٹی اے ٹیکس میں بھی کمی آئے گی۔ اس اقدام کا مقصد عالمی مارکیٹ میں رائج اصل قیمتوں کے مطابق ڈیوٹی اور ٹیکس کو ہم آہنگ کرنا ہے۔ یاد رہے کہ یہ تبدیلی 16 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہے۔
کن برانڈز اور ماڈلز پر اثر پڑے گا؟
یہ تبدیلیاں خاص طور پر ایپل، سام سنگ، گوگل پکسل اور ون پلس کے پرانے ماڈلز پر لاگو ہوں گی۔ مثال کے طور پر استعمال شدہ آئی فون 15 پرو میکس کی کسٹمز ویلیو اب تقریباً 460 امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل 256 جی بی آئی فون 15 کی ویلیو 1300 ڈالر تھی۔
اسی طرح آئی فون 15 پرو کی ویلیو 390 ڈالر (تقریباً ایک لاکھ نو ہزار روپے)، جبکہ 15 پلس اور سادہ 15 کی ویلیو تقریباً 89 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔
آئی فون 13 سیریز اور دیگر ماڈلز کی ویلیوز میں 32 فیصد سے 81 فیصد تک کمی آئی ہے۔
سام سنگ کے حوالے سے ایف بی آر رولنگ کے مطابق سام سنگ گلیکسی ایس 23 الٹرا کی ویلیو 71 ہزار، ایس 23 پلس اور ایس 22 الٹرا کی ویلیو 45 ہزار، جبکہ ایس 22 پلس کی ویلیو 21 ہزار مقرر کی گئی ہے۔ استعمال شدہ آئی فونز کی ویلیو رینج اب 95 سے 295 ڈالر، جبکہ سام سنگ گلیکسی فونز کی ویلیو 40 سے 255 ڈالر تک ہے۔
واضح رہے کہ فون بغیر پیکنگ اور اضافی سامان کے ہونا چاہیے۔ اس نئی پالیسی سے مارکیٹ میں استعمال شدہ فونز کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے، جو صارفین کے لیے بڑی سہولت ثابت ہو سکتی ہے۔ اس فیصلے سے غیر قانونی درآمد اور اسمگلنگ میں کمی آنے کی بھی توقع ہے۔
کیا یہ سہولت نئے فونز پر بھی لاگو ہوگی؟
یہ تبدیلی صرف پرانے اور استعمال شدہ موبائل فونز کے لیے ہے۔ نئے موبائل فونز پر ٹیکس اور کسٹمز ویلیوز پہلے کی طرح برقرار رہیں گی۔ اگر آپ بیرونِ ملک سے استعمال شدہ موبائل فون منگوانا چاہتے ہیں تو اب یہ پہلے کے مقابلے میں سستا پڑ سکتا ہے۔ مخصوص ماڈل کا اندازاً ٹیکس جاننے کے لیے پی ٹی اے کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود ٹیکس کیلکولیٹر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
موبائل فون مارکیٹ سے وابستہ ماہرین کے مطابق وفاقی بورڈ آف ریونیو کی جانب سے استعمال شدہ موبائل فونز کی کسٹمز ویلیوز میں کمی کا براہِ راست اثر مارکیٹ قیمتوں پر پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں:مخصوص طبقے کو بجلی، گیس اور ٹیکس میں رعایتیں، مصدق ملک بول پڑے
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ مہنگے اسمارٹ فونز، خصوصاً آئی فون اور سام سنگ کے بیشتر ماڈلز، بیرونِ ملک سے استعمال شدہ یا اوپن باکس حالت میں درآمد کیے جاتے ہیں، اس لیے کسٹمز ویلیو کم ہونے سے امپورٹ لاگت میں نمایاں کمی آئے گی، جس کا فائدہ صارفین کو بھی منتقل ہوگا۔
راولپنڈی کمرشل مارکیٹ میں موبائل فون کے کاروبار سے وابستہ خرم شہزاد افضل کے مطابق پاکستانی عوام کی ایک بڑی تعداد استعمال شدہ موبائل فونز خریدنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے، کیونکہ استعمال شدہ موبائل فون نئے موبائلز کے مقابلے میں بجٹ فرینڈلی ہوتے ہیں۔
خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ آئی فون 13، 14 اور 15 سیریز کے ساتھ ساتھ سام سنگ کی ایس 22 اور ایس 23 سیریز کے فونز پر عائد ٹیکس میں نمایاں کمی ممکن ہو گئی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ان ماڈلز کی مارکیٹ قیمت میں ابتدائی طور پر 20 ہزار سے 50 ہزار روپے تک کمی آ سکتی ہے، جبکہ بعض مہنگے ماڈلز پر مجموعی ٹیکس میں 30 ہزار سے 70 ہزار روپے تک کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، خاص طور پر پاسپورٹ کے ذریعے رجسٹریشن کی صورت میں۔ مثال کے طور پر آئی فون 15 سیریز پر پی ٹی اے ٹیکس اب تقریباً 31,640 روپے (پاسپورٹ کے تحت) سے 34,101 روپے (شناختی کارڈ کے تحت) تک رہ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی حکومت کا 5 سالہ صنعتی پالیسی کا اعلان، سپر ٹیکس میں 3 فیصد کمی
ان کے مطابق اس اقدام سے ملک میں استعمال شدہ موبائل فونز کی مارکیٹ ایک بار پھر بحال ہوگی، کیونکہ اچھا موبائل اب ایک ضرورت بن چکا ہے، جبکہ قیمتیں زیادہ ہونے کے باعث موبائل فون کے کاروبار پر منفی اثر پڑ رہا تھا۔ امید ہے کہ اب اس شعبے میں بہتری آئے گی۔
راولپنڈی دبئی پلازہ میں موبائل فون کا کاروبار کرنے والے تاجر محمد ناصر کے مطابق صارفین کو اس فیصلے کا مکمل فائدہ فوری طور پر نہیں بلکہ ایک سے دو ماہ کے دوران ملے گا، کیونکہ مارکیٹ میں موجود پرانا اسٹاک پہلے سے طے شدہ زیادہ کسٹمز ویلیوز پر کلیئر کیا گیا ہے۔ جیسے جیسے نیا اسٹاک کم ویلیوز پر درآمد ہوگا، ویسے ویسے قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام غیر قانونی درآمد اور اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی میں بھی معاون ثابت ہوگا، کیونکہ اب قانونی ذرائع سے استعمال شدہ موبائل فون منگوانا نسبتاً سستا پڑے گا۔ اس کے نتیجے میں گرے مارکیٹ کا دباؤ کم ہونے اور ریگولیٹڈ مارکیٹ کے مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی موبائل فون کی حتمی قیمت اس کی کنڈیشن، بیٹری ہیلتھ، پی ٹی اے رجسٹریشن کے طریقہ کار اور درآمد کنندہ کے منافع پر منحصر ہوگی، جس کے باعث مختلف دکانوں پر قیمت میں 10 ہزار سے 15 ہزار روپے تک فرق ممکن ہے۔ اس کے باوجود مجموعی طور پر اس فیصلے کو صارفین کے لیے ایک مثبت اور فائدہ مند اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بورڈ آف ریونیو ٹیکس کسٹمز ویلیوایشن موبائل فون.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بورڈ آف ریونیو ٹیکس کسٹمز ویلیوایشن موبائل فون استعمال شدہ موبائل فونز استعمال شدہ موبائل فون سے استعمال شدہ قیمتوں میں کمی موبائل فونز کی کسٹمز ویلیوز کسٹمز ویلیو مارکیٹ میں ہزار روپے آئی فون 15 ٹیکس میں کی ویلیو کے مطابق اس فیصلے پی ٹی اے فونز پر گئی ہے آئے گی کے لیے
پڑھیں:
والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔
دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاقکمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے
واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔
نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگنئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔
میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔
الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی’میٹا‘ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔
یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔
’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرولسوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔
یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین