گلبرگ کے علاقے میں آتشزدگی، ہوٹل کے مالک سمیت 6 افراد کے خلاف مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
گلبرگ کے علاقے میں ہوٹل آتشزدگی کے معاملے میں گلبرگ پولیس نے ہوٹل کے مالک کرنل ریٹائرڈ فضیل احمد سمیت 6 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مقدمے میں ہوٹل انتظامیہ کے عہدے دار ندیم مرزا ،عاطف ، محمد کامل خان ،بلال شاہ ،اور محمد مصائب کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ سول ڈیفنس کے چیف انسٹرکٹر راشد رفیق کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی ار میں کہا گیا ہے کہ ہوٹل انتظامیہ نے بیسمنٹ میں غیر قانونی بوائلر نصب کرکے گیس سپلائی کی تھی۔ بوائلر پھٹنے اور گیس لیکج سے ہوٹل میں آگ لگی۔ بوائلر آپریٹر ناتجربہ کار تھا۔
ہوٹل انتظامیہ کو فائر سیفٹی کے لئے نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا مگر انتظامیہ نے اسے نذر انداز کیا۔ ہوٹل انتظامیہ کی غفلت سے 3 افراد جاں بحق جبکہ 4 زخمی ہوئے۔
مزید برآں آتشزدگی سے بیسمنٹ میں کھڑی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ہوٹل انتظامیہ
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔