بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
سندھ حکومت نے تقرر و تبادلوں کے سلسلے میں اہم فیصلہ کرتے ہوئے دو افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق اسپیشل سیکریٹری بلدیات اور یلو لائن بس ٹرانزٹ منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو ان کے موجودہ عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔حکومتی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر محکمہ سروسز میں رپورٹ کریں۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام انتظامی بہتری اور کارکردگی کو مؤثر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔سندھ حکومت کی جانب سے تقرروتبادلوں کا یہ عمل معمول کی کارروائی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس فیصلے کو صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور بلدیاتی امور سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔یلو لائن بس ٹرانزٹ منصوبہ صوبے کا ایک اہم عوامی منصوبہ ہے.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: گیا ہے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔