ڈی آئی خان، شادی تقریب پر خودکش حملہ، 5افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
پشاور:(نیوزڈیسک) ڈی آئی خان میں شادی کی ایک تقریب کے دوران ہونے والے خودکش حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حملہ آور ایک افغان خودکش بمبار تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار کی شناخت 21 سالہ عبدالرحمن کے نام سے ہوئی ہے جو افغان دہشتگرد نکلا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق خودکش بمبار سفید چادر اوڑھے شادی کے پنڈال میں داخل ہوا۔
فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قبائلی رقص کے دوران خودکش بمبار اچانک پنڈال چھوڑ کر عقب میں واقع ایک کمرے کی جانب گیا، جہاں علاقہ کے معتبرین موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق کمرے میں داخل ہوتے ہی خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں کمرے کی چھت منہدم ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق خودکش بمبار کے علاوہ حملے میں پانچ افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ خودکش حملہ امن کمیٹی کے سربراہ نور عالم محسود کے بھتیجے کی شادی کی تقریب میں کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مؤثر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے باعث دہشت گرد براہِ راست سیکیورٹی فورسز کا سامنا کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنی ناکامی چھپانے اور خوف پھیلانے کے لیے دہشت گرد عوامی اجتماعات، مذہبی تقریبات اور نہتے شہریوں جیسے سوفٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ماہرین یہ بھی مانتے ہیں کہ افغانستان اس وقت دہشت گردی کے لیے بیس آف آپریشن کے طور پر استعمال ہو رہا ہے اور افغان دہشت گرد پاکستان میں ہائرڈ گنز کے طور پر سرگرم ہیں۔
ماہرین کے مطابق دہشت گردی میں افغان باشندوں کی شمولیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشت گرد نیٹ ورکس کو ریاستی سطح پر مکمل سرپرستی اور سہولت فراہم کر رہی ہے۔ افغان طالبان رجیم کی منظم سرپرستی میں فتنہ الخوارج کی دہشت گردی اور خودکش حملے خطے کے لیے ناسور بن چکے ہیں، جن کا جلد از جلد اور فیصلہ کن خاتمہ ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔