تیراہ آپریشن، جھوٹے پروپیگنڈے کا سخت نوٹس لیا ہے: وزیر اطلاعات
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
کوٹ مومن:(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے وادی تیراہ سے متعلق پھیلائے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈے کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کرنے والوں کے لیے چار ارب روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں جبکہ علاقے کو زبردستی خالی کرانے سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ علاقے سے انخلاء کو پاک فوج سے جوڑنا سراسر غلط بیانی ہے، تاہم خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سکیورٹی آپریشنز جاری رہتے ہیں۔
وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مسائل پر توجہ دے، صوبے میں فرانزک لیب قائم کرے اور عوامی فلاح کے منصوبے شروع کرے۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کی کالیں سن سن کر عوام تھک چکے ہیں اور احتجاج کی سیاست میں کچھ نہیں رکھا، اصل ضرورت عوام کی خدمت پر توجہ مرکوز کرنے کی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ عوام اپنی دہلیز پر سہولیات چاہتے ہیں اور آئندہ انتخابات میں فیصلہ احتجاج کی بنیاد پر نہیں بلکہ عوامی خدمت کی کارکردگی پر ہونا چاہیے۔
قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے سینئر صحافی عون شیرازی کی رہائشگاہ پر انکی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت کی اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر اطلاعات
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔