سابق بیوروکریٹ سعید مہدی کی کتاب’’دی آئی وٹنس‘‘ کی رونمائی
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک)سابق بیوروکریٹ سعید مہدی کی کتاب’’دی آئی وٹنس
‘‘(The Eyewitness)کی رونمائی کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے پاکستان کی سیاسی تاریخ، آئین و قانون کی بالادستی، اور قومی اداروں کے استحکام میں بیوروکریسی کے کردار پر روشنی ڈالی۔
مقررین نے سعید مہدی کی پیشہ ورانہ خدمات، دیانت داری اور قومی ترقی میں ان کے کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکاء کا کہنا تھا کہ سعید مہدی کی سوانح عمری نہ صرف ایک فرد کی زندگی کی داستان ہے بلکہ یہ پاکستان کی سیاسی و انتظامی تاریخ کا ایک اہم باب بھی ہے، جو آئندہ نسلوں کے لیے رہنمائی فراہم کرے گا۔
تقریب میں نامور شخصیات، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سعید مہدی کی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔