ڈی آئی خان: شادی کی تقریب میں دھماکے کی فوٹیج سامنے آگئی، خودکش بمبار افغانی نکلا
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی کی تقریب کے دوران ہونے والے خود کش حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی ہے۔ڈی آئی خان میں 23 جنوری کو قریشی موڑ کے قریب شادی کی تقریب کے دوران ہونے والے خودکش حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی ہے.خود کش بمبار افغانی نکلا، خودکش بمبار کی شناخت 21 سالہ عبدالرحمان نامی شخص سے ہوئی جو افغان دہشت گرد ہے۔فوٹیج کے مطابق خودکش بمبار سفید چادر اوڑھے پنڈال میں داخل ہوا، خودکش بمبار قبائلی رقص کے دوران اچانک پنڈال چھوڑ کر عقب میں واقع ایک کمرے کی طرف گیا، جہاں عقابرینِ علاقہ موجود تھے۔خودکش بمبار نے کمرے میں داخل ہوتے ہی خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں کمرے کی چھت منہدم ہوگئی، واصلِ جہنم خودکش بمبار کے علاوہ حملہ میں پانچ افراد جاں بحق ہوئے۔ خودکش حملہ امن کمیٹی کے سربراہ نور عالم محسود کے بھتیجے کی شادی کی تقریب میں کیا گیا۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے موثر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی وجہ سے دہشت گرد اب براہِ راست سیکیورٹی فورسز کا سامنا کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ دہشت گرد اپنی ناکامی چھپانے اور خوف پھیلانے کے لیے عوامی اجتماعات، مذہبی تقریبات اور نہتے شہریوں جیسے سوفٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ افغانستان اس وقت دہشت گردی کے لیے بیس آف آپریشن ہے اور افغان دہشتگرد پاکستان میں Hired Guns کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ دہشت گردی میں افغان باشندوں کی شمولیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشت گرد نیٹ ورکس کو ریاستی سطح پر مکمل سرپرستی اور سہولت فراہم کر رہی ہے۔افغان طالبان رجیم کی منظم سرپرستی میں فتنۃ الخوارج کی دہشت گردی اور خودکش حملے خطے کے لیے ناسور بن چکے ہیں، جن کا جلد از جلد اور فیصلہ کن خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شادی کی تقریب
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔