خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی کی تقریب کے دوران ہونے والے خود کش حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی ہے۔ڈی آئی خان میں 23 جنوری کو قریشی موڑ کے قریب شادی کی تقریب کے دوران ہونے والے خودکش حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی ہے.خود کش بمبار افغانی نکلا، خودکش بمبار کی شناخت 21 سالہ عبدالرحمان نامی شخص سے ہوئی جو افغان دہشت گرد ہے۔فوٹیج کے مطابق خودکش بمبار سفید چادر اوڑھے پنڈال میں داخل ہوا، خودکش بمبار قبائلی رقص کے دوران اچانک پنڈال چھوڑ کر عقب میں واقع ایک کمرے کی طرف گیا، جہاں عقابرینِ علاقہ موجود تھے۔خودکش بمبار نے کمرے میں داخل ہوتے ہی خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں کمرے کی چھت منہدم ہوگئی، واصلِ جہنم خودکش بمبار کے علاوہ حملہ میں پانچ افراد جاں بحق ہوئے۔ خودکش حملہ امن کمیٹی کے سربراہ نور عالم محسود کے بھتیجے کی شادی کی تقریب میں کیا گیا۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے موثر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی وجہ سے دہشت گرد اب براہِ راست سیکیورٹی فورسز کا سامنا کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ دہشت گرد اپنی ناکامی چھپانے اور خوف پھیلانے کے لیے عوامی اجتماعات، مذہبی تقریبات اور نہتے شہریوں جیسے سوفٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ افغانستان اس وقت دہشت گردی کے لیے بیس آف آپریشن ہے اور افغان دہشتگرد پاکستان میں Hired Guns کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ دہشت گردی میں افغان باشندوں کی شمولیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشت گرد نیٹ ورکس کو ریاستی سطح پر مکمل سرپرستی اور سہولت فراہم کر رہی ہے۔افغان طالبان رجیم کی منظم سرپرستی میں فتنۃ الخوارج کی دہشت گردی اور خودکش حملے خطے کے لیے ناسور بن چکے ہیں، جن کا جلد از جلد اور فیصلہ کن خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: شادی کی تقریب

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار