Islam Times:
2026-06-02@22:27:54 GMT

ٹرمپ کا امریکہ اور امریکی شہری

اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT

ٹرمپ کا امریکہ اور امریکی شہری

اسلام ٹائمز: میں ایمانداری سے سوچتا ہوں کہ ہمارا ملک ختم ہوچکا ہے اور صیہونیوں نے ہمیں مار ڈالا ہے۔ آئی سی ای ایک اسرائیلی اور مجرمانہ کارپوریشن ہے۔ اگر آپ دیکھیں کہ اسرائیلی فوج فلسطین میں کیسا برتاؤ کرتی ہے اور امریکہ میں ICE کیسا برتاؤ کرتا ہے، تو آپ سمجھ جائیں گے کہ ICE کا کیا مطلب ہے اور وہ گروہ کس کی نمائندگی کرتا ہے اور اسکا تعلق کس سے ہے۔ ٹرمپ شرم کرو۔ ICE پر شرم کرو۔ امریکہ پر شرم آنی چاہیئے، اگر وہ اسرائیلی فوج کے ان تربیت یافتہ قاتلوں کو فوری گرفتار نہیں کرتے تو یہ شرمناک ہے۔ میں نہیں جانتا تھا کہ اسرائیلی فوج کی یہاں اتنی گہری جڑیں ہیں!???? مینی پولس میں اسرائیلی فوج کب سے کام کر رہی ہے۔؟ تحریر: پرشنگ خاکپور

امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ افسران کے ہاتھوں ایک امریکی شہری کے قتل کی جاری کردہ فوٹیج ایجنسی کے "اپنے دفاع" کے سرکاری بیانیے کو مشکوک اور ہتھیاروں کے استعمال، وفاقی افواج کی تربیت اور امریکی سکیورٹی اداروں کے احتساب کے بارے میں سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ وہ سوالات جو اب ایک مقامی واقعہ سے بڑھ کر ایک قومی بحران کی شکل اختیار کرچکے ہیں اور دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکی اداروں کی تربیت میں اسرائیلی فوج کی شمولیت اور نگرانی کی خبریں بھی گشت کر رہی ہیں۔ واقعے کی جاری کی گئی فوٹیج میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کل (ہفتہ) کو کئی امریکی افسران ایک شخص کے ساتھ لڑائی میں ملوث ہیں اور وہ اسے زمین پر پٹخ رہے ہیں۔ چند لمحوں کے بعد کئی گولیوں کی آواز سنائی دیتی ہے اور پھر وہی آدمی بے حرکت زمین پر گر پڑتا ہے۔ یہ واقعہ ایک 37 سالہ امریکی خاتون کے ICE افسر کے ہاتھوں قتل ہونے کے صرف دو ہفتے بعد پیش آیا ہے۔

غیر ملکی صارفین کا کہنا ہے کہ امریکی امیگریشن پولیس کا تشدد اور غیر انسانی رویہ انہیں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے جرائم کی یاد دلاتا ہے۔ بین الاقوامی کارکن طنزیہ انداز میں اسرائیلی فوج کو امریکی پولیس فورسز کے لیے ایک حوالہ اور ٹرینر قرار دے رہے ہیں۔ اس بارے میں غیر ملکی صارفین کے کچھ تبصرے اور تصاویر یہ ہیں۔ یہ اسرائیلی فوج کی طرف سے پھانسی کے مترادف ہے۔ آپ کے خیال میں ان کی تربیت کون کر رہا ہے۔؟ اسرائیلی فوج ہماری افواج کو تربیت دینے کے لیے یہاں آتی ہے اور کچھ ایجنسیاں وہاں اپنے ایجنٹوں کو "تربیت" کے لیے بھیجتی ہیں۔ بہتر ہے کہ امریکی جاگ جائیں! لیکن آپ جانتے ہیں کہ وہ ایک کہانی اور بیانیہ بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نے (امریکی امیگریشن سروس) ICE کو دھمکی دی، لہذا اس کے علاوہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ رکنا ہوگا۔ یہ بیماری ہے!!!!! اور یقیناً یہ غزہ کی طرح ہے۔ آپ کے خیال میں ہم یہ سب کہاں سے سیکھتے ہیں!؟ میں ایمانداری سے سوچتا ہوں کہ ہمارا ملک ختم ہوچکا ہے اور صیہونیوں نے ہمیں مار ڈالا ہے۔ آئی سی ای ایک اسرائیلی اور مجرمانہ کارپوریشن   ہے۔ اگر آپ دیکھیں کہ اسرائیلی فوج فلسطین میں کیسا برتاؤ کرتی ہے اور امریکہ میں ICE کیسا برتاؤ کرتا ہے، تو آپ سمجھ جائیں گے کہ ICE کا کیا مطلب ہے اور وہ گروہ کس کی نمائندگی کرتا ہے اور اس کا تعلق کس سے ہے۔ ٹرمپ شرم کرو۔ ICE پر شرم کرو۔ امریکہ پر شرم آنی چاہیئے، اگر وہ اسرائیلی فوج کے ان تربیت یافتہ قاتلوں کو فوری گرفتار نہیں کرتے تو یہ شرمناک ہے۔ میں نہیں جانتا تھا کہ اسرائیلی فوج کی یہاں اتنی گہری جڑیں ہیں!???? مینی پولس میں اسرائیلی فوج کب سے کام کر رہی ہے۔؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میں اسرائیلی فوج اسرائیلی فوج کی کہ اسرائیلی فوج کیسا برتاؤ کرتا ہے ہے اور

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان