Islam Times:
2026-07-24@02:47:25 GMT

ایران کی میزائل طاقت

اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT

ایران کی میزائل طاقت

اسلام ٹائمز: انہوں نے مزید کہا: "یہ ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی پانچ نسلیں ہیں، جو اسرائیل تک پہنچیں گے۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہاں بیان کردہ تمام صلاحیتیں جو منظرعام پر ہیں۔ ایران کی اسلحہ سازی کی صنعت 12 روزہ جنگ کے نقصان کے بعد اپنے میزائل سسٹم میں تبدیلیاں کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔ اسکی وجہ سے ستمبر کے بعد سے ایران میں متعدد میزائل تجربات کیے جا چکے ہیں۔ ایرانی انجینئرز کی تخلیقی صلاحیتیں برسوں سے حیران کن ہیں۔ انہوں نے ریورس انجینئرنگ کمپلیکس سسٹم میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس لیے اس خطرے کے دائرہ کار کو بھی کم نہیں سمجھا جانا چاہیئے کہ ایک پرانا میزائل بھی اپنے مطلوبہ ہدف تک پہنچ سکتا ہے۔ تحریر: رضا عیوضی

اسرائیلی فوجی ماہر کیلکالسٹ کی شائع کردہ ایک نئی رپورٹ کے مطابق، ایران نے بیلسٹک میزائلوں کی پانچ اہم نسلیں تیار کی ہیں، جن میں سے ہر ایک ملک کے دفاعی فوجی نظریے میں الگ الگ کردار ادا کرتا ہے۔ اس تکنیکی سکیورٹی رپورٹ میں ان ہتھیاروں کی طاقت، کمزوریوں اور اسٹریٹجک اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

شہاب میزائل:
اس میڈیا آؤٹ لیٹ کے مطابق، ایران کے میزائل ہتھیاروں کا سب سے قدیم اور سب سے زیادہ حصہ شہاب نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ عراق ایران جنگ میں سامنے آیا  اور سکڈ میزائلوں کی ریورس انجینئرنگ سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میزائل کی اہم خصوصیت مائع ایندھن سے چلنے والے انجن کا استعمال ہے، البتہ اسے لانچ کرنے سے پہلے ایندھن بھرنے کے عمل میں وقت لگتا ہے۔ یہ تاخیر دشمن کو پہلے سے ہی لانچروں کی شناخت اور نشانہ بنانے کا موقع فراہم کر دیتی ہے۔ اس نسل میں شہاب 3 سے لے کر عماد اور قدر 110 جیسے ماڈلز شامل ہیں۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دوسرے ایرانی میزائلوں کے مقابلے میں ان میزائلوں کی آپریشنل درستگی محدود ہے اور تہران ممکنہ طور پر ان کا استعمال زیادہ مقدار میں فائر کرنے اور دشمن کے میزائل ڈیفنس سسٹم پر دباؤ ڈالنے کے لیے کرے گا۔ شہاب ایران کے میزائل ہتھیاروں کا سب سے قدیم اور سب سے زیادہ حصہ ہے۔

الفتح جنریشن، ایران کے میزائل ہتھیاروں کا جدید ترین ماڈل
"فتح" میزائل کو ایران کی میزائل طاقت کے جدید ترین حصے کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ مذکورہ صہیونی ماہر کے مطابق فتح نسل کو ایران کے میزائل ہتھیاروں کا سب سے زیادہ تشویشناک حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اس جنرشن میزائل کا اہم امتیازی نقطہ ٹھوس ایندھن کے انجن کا استعمال ہے، جو تیز رفتاری سے تیاری اور بغیر ایندھن بھرنے کے طویل مراحل کے فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کا آپریشن حیرت میں اضافے کا ایک عنصر ہے۔ اس نسل کے میزائل میں تنوع کو متاثر کن کے طور پر بیان کیا گیا ہے: "خلیج فارس" اینٹی شپ میزائل اور مختصر فاصلے کے ماڈل سے لے کر انفراریڈ گائیڈنس کے ساتھ "فتح ماڈل ایک بہترین آپشن ہے۔

اہم خطرہ، مینیوور ایبل میزائل
تاہم، رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اصل خطرہ چند مخصوص ماڈلز میں مرکوز ہے، جن میں تیز رفتار "خیبرشکن" میزائل، دو مرحلوں والا "حاج قاسم" میزائل اور سب سے اہم، ہائپر سونک "فتح" میزائل ہے۔ یہ جدید ماڈل جنگی سازوسامان سے لیس ہیں، جو کہ ٹارگٹ ایریا میں داخل ہونے کے مرحلے کے دوران غیر متوقع صلاحیت سے مالا مال ہیں۔ یہ میزائل کسی بھی دفاعی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان جدید ٹھوس ایندھن کے انجنوں کی پیداوار بہت پیچیدہ ہے اور ان میزائلوں کی آپریشنل تعداد محدود ہو سکتی ہے۔

مخصوص مشن کیلئے خصوصی میزائل ایران کی منفرد طاقت ہے
رپورٹ میں مخصوص مشنوں کے لیے دو دیگر میزائلوں کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ خرمشہر نسل، جسے سپر ہیوی یا متعدد وار ہیڈز لے جانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ سب سے اہم ماڈل خرمشہر-4 ہے، جس کی رینج 2,000 کلومیٹر ہے، جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتی ہے۔ سجیل جنریشن، مقامی ڈیزائن شدہ ایران کا سب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل  ہے، جس کی رینج 2500 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ ان بڑے میزائلوں کا مشترک عنصر ان کا مائع ایندھن اور بڑے، لانچرز ہیں۔ اس صہیونی ماہر کے مطابق، ایران اس وقت دوہرا طریقہ اختیار کر رہا ہے۔ دشمن کے دفاع کو عبور کرنے اور ختم کرنے کے لیے پرانے، کم درست میزائلوں (جیسے شہاب) کے ایک بڑے ذخیرے کو برقرار رکھنا اور درست، زیادہ اہم ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے کم تعداد میں جدید، تیز اور قابل تدبیر میزائل (جیسے کچھ فتح ماڈل) تیار کرنا ہے۔

اس تجزیہ کے مطابق، یہ مجموعہ کسی بھی دفاعی منظرنامے کے لیے اہم پیچیدگی پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: "یہ ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی پانچ نسلیں ہیں، جو اسرائیل تک پہنچیں گے۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہاں بیان کردہ تمام صلاحیتیں جو منظرعام پر ہیں۔ ایران کی اسلحہ سازی کی صنعت 12 روزہ جنگ کے نقصان کے بعد اپنے میزائل سسٹم میں تبدیلیاں کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے ستمبر کے بعد سے ایران میں متعدد میزائل تجربات کیے جا چکے ہیں۔ ایرانی انجینئرز کی تخلیقی صلاحیتیں برسوں سے حیران کن ہیں۔ انہوں نے ریورس انجینئرنگ کمپلیکس سسٹم میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس لیے اس خطرے کے دائرہ کار کو بھی کم نہیں سمجھا جانا چاہیئے کہ ایک پرانا میزائل بھی اپنے مطلوبہ ہدف تک پہنچ سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران کے میزائل ہتھیاروں کا میزائلوں کی کیا گیا ہے رپورٹ میں کے مطابق انہوں نے سے زیادہ ایران کی کا سب سے کے لیے کے بعد

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار