تیراہ آپریشن: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی کارروائی روکنے کی وارننگ، نیا لائحہ عمل دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سوات : وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں جاری آپریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آئندہ دو سے تین دن میں آپریشن بند نہ کیا گیا تو صوبائی حکومت نئی حکمتِ عملی اختیار کرنے پر مجبور ہوگی۔
سوات کے علاقے مینگورہ میں پاکستان تحریک انصاف کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاق کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ تیراہ کے عوام کو نقل مکانی کا براہِ راست حکم نہیں دیا گیا، جس سے صورتحال مزید ابہام کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیراہ کے عوام کسی خوشی کی تقریب میں شرکت کے لیے نہیں نکلے بلکہ انہیں حالات کے باعث گھروں سے بے دخل ہونا پڑا۔
سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ جب سیاسی طور پر شکست نہ دی جا سکی تو دہشت گردی کے الزامات لگا کر لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔ ان کے مطابق ایک 24 رکنی کمیٹی کو دباؤ میں لا کر آپریشن کی راہ ہموار کی گئی۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ نہ فوج کے مخالف ہیں اور نہ ہی ریاستی اداروں کے، تاہم سیاست میں مداخلت کرنے والوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ماضی میں فوجی جوانوں کے جنازوں میں شریک ہوتے رہے ہیں لیکن اب انہیں ایسے مواقع پر مدعو نہیں کیا جاتا۔
عمران خان کی رہائی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس بار مکمل تیاری کے ساتھ اسلام آباد کا رخ کیا جائے گا اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض عناصر صوبائی حکومت اور اداروں کے درمیان تصادم پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔