سانحہ گل پلازہ سے ملنے والی انسانی باقیات کا ڈی این اے کہاں ہورہا ہے؟ ورثا کو اعتماد میں لیا جائے، فاروق ستار
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
سانحہ گل پلازہ سے ملنے والی انسانی باقیات کا ڈی این اے کہاں ہورہا ہے؟ ورثا کو اعتماد میں لیا جائے، فاروق ستار WhatsAppFacebookTwitter 0 25 January, 2026 سب نیوز
کراچی(آئی پی ایس )متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ سے ملنے والی انسانی باقیات کا ڈی این اے ٹیسٹ اور فرانزک کہاں ہورہا ہے؟ ورثا، سیاسی، مذہبی جماعتوں اور تاجروں کو اعتماد میں لیا جائے۔
دہلی کالونی میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی نماز جنازہ میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ ایک المناک قومی سانحہ ہے جس میں 100 سے زیادہ قیمتی جانوں کا اور اربوں روپے کا نقصان ہوا، پورا ملک اس سانحہ پر سوگوار ہے ہر آنکھ اشک بار ہے، آج یہاں سے چار جنازے اٹھے ہیں جب کہ اس کالونی میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد شہید ہوئے، چار کا جسد خاکی ڈی این اے سے میچ ہوگیا ہے اور دو باقی ہیں، ایک بیٹی بچی ہے اور پورا خاندان شہید ہوگیا، شادی کے گھر کی خوشیاں خاک میں مل گئیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بتایا جائے کہ ٹیسٹ اور فارنزک کہاں ہورہا ہے؟ باقیات کا احترام اور تقدس کے ساتھ فارنزک ٹیسٹ کیا جائے لواحقین صرف یہ چاہتے ہیں، وزیر اعلی سندھ اور میئر کراچی دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں اور تاجر تنظیموں کو اعتماد میں لیں، لاپتا افراد کے اہل خانہ کو مطمئن کریں، گنتی پوری کیے بغیر سکون نہیں ملے گا، اہل خانہ لواحقین کے لیے صبر کی دعا کرتے ہیں۔
فاروق ستار نے کہا کہ ایک دکان سے 30 لاشیں مل سکتی ہیں تو یہ رش کا وقت تھا، بہت سے لوگوں کی رجسٹریشن نہیں ہوئی، اندرون ملک سے آنے والے محنت کشوں کے لواحقین کو تو معلوم بھی نہیں ہوگا، دو ٹرکوں کی باقیات کا چوری ہونا تشویش ناک ہے، بہت سے سوال ہیں جن کا جواب دینا ہے، لاپتا افراد کے اہل خانہ کی تسلی کے لیے ضروری ہے انہیں مطمئن کیا جائے ان کی تسلی و تشفی کے لیے فارنزک کی ویڈیو سامنے لائی جائے، باقیات کی تصدیق اور جسد اہل خانہ تک پہنچانے کے کام میں تیزی لائی جائے، جس طرح گورنر ہائوس میں رابطہ مرکز بنایا گیا ہے اس طرح وزیراعلی اور میئر کے دفتر میں بھی مراکز قائم کریں۔ان کا کہنا تھا کہ کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں وہ کیسے رپورٹ دیں گے کہ حکومت سندھ یا بلدیاتی اداروں کی غفلت ہے؟ تحقیقات کے لیے اعلی سطح کی کمیٹی بنائی جائے، آئی ایس آئی اور ایف آئی اے پر مشتمل آزاد اور غیر جانب دار کمیشن سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں قائم کیا جائے، کمشنر کی سربراہی کی تحقیقات کو کوئی نہیں مانے گا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ سنگین معاملہ ہے میری، عبدالستار افغانی یا نعمت اللہ صاحب کی میئرشپ کے دور میں ریگولر ایڈیشن قانونی ہوئیں، اگر کوئی غیر قانونی عمل ہو تو احتساب کے لیے خود کو پیش کرتا ہوں مگر آپ جواب دیں آگ کیوں نہ بجھائی گئی؟ عوام سزا نہیں دے سکتے ہوسکتا ہے شفاف تحقیقات سے آپ سدھر جائیں، فائر فائٹرز کی جانوں کو بچایا جائے، فائر فائٹر فرقان کے گھر وزیر اعلی میئر کیوں نہ گئے؟ جو لوگ فرقان کے گھر نہیں گئے انہی جانا چاہیے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگھریلو تشددکیخلاف بل دستخط کیلئے صدر مملکت کو ارسال گھریلو تشددکیخلاف بل دستخط کیلئے صدر مملکت کو ارسال وفاقی حکومت کا کراچی میں اکنامک زون قائم کرنے کا فیصلہ وزیرداخلہ سے چینی قونصل جنرل کی ملاقات، پاک چین دوستی مزید مضبوط بنانے کا اعادہ برابری کی بنیاد پر حقوق کی فراہمی مضبوط ریاست کی بنیاد ہے،جسٹس (ر) اطہر من اللہ ٹیکس نیٹ میں توسیع کے بغیر معیشت کا استحکام ممکن نہیں، چیئرمین ایف بی آر اسلام آباد کی 50فیصد سے زائد ہائی رائز عمارتوں میں فائرسیفٹی آلات مکمل نہیں، ذرائعCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ کہاں ہورہا ہے کو اعتماد میں فاروق ستار باقیات کا ڈی این اے اہل خانہ کے لیے نے کہا
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ