سانحہ گل پلازہ: فاروق ستار کا ڈی این اے اور فارنزک عمل کی شفافیت اور اعلیٰ سطحی آزاد تحقیقات کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی : سانحہ گل پلازہ پر متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے شفاف تحقیقات، ڈی این اے اور فارنزک عمل کی تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ دہلی کالونی میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کا واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک قومی المیہ ہے، جس میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور اربوں روپے کا نقصان ہوا۔
فاروق ستار کے مطابق ایک ہی خاندان کے چھ افراد اس سانحے میں جاں بحق ہوئے، جن میں سے چار کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ہو چکی ہے جبکہ دو افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو اس وقت تک سکون نہیں مل سکتا جب تک تمام لاپتا افراد کا مکمل حساب سامنے نہیں آ جاتا۔
ایم کیو ایم رہنما نے سوال اٹھایا کہ انسانی باقیات کے ڈی این اے اور فارنزک ٹیسٹ کہاں اور کس نگرانی میں کیے جا رہے ہیں، اور مطالبہ کیا کہ اس پورے عمل کو احترام اور شفافیت کے ساتھ مکمل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ اور میئر کراچی سیاسی، مذہبی جماعتوں اور تاجر تنظیموں کو اعتماد میں لیں اور لاپتا افراد کے اہل خانہ کو مطمئن کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ رش کے وقت ایک دکان سے بڑی تعداد میں لاشوں کا ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ کئی افراد کی رجسٹریشن تک نہیں ہوئی تھی، خاص طور پر اندرونِ ملک سے آنے والے محنت کشوں کے لواحقین کو اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات بھی نہیں مل پا رہیں۔ باقیات سے بھرے ٹرکوں کا غائب ہونا بھی ایک تشویش ناک پہلو ہے۔
فاروق ستار نے سرکاری سطح پر ہونے والی تحقیقات کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمشنر کراچی کی سربراہی میں رپورٹ قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں آئی ایس آئی اور ایف آئی اے پر مشتمل ایک آزاد اور غیرجانبدار تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فاروق ستار ڈی این اے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔