اختیار ولی کا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر سنگین الزام، گھر کے باہر نعرے بازی کرانے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
وزیراعظم پاکستان کے میڈیا کوآرڈینیٹر برائے خیبرپختونخوا اختیار ولی خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر براہِ راست الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ نے دانستہ طور پر ان کے گھر کے سامنے ریلی رکوائی اور کارکنوں سے اشتعال انگیز نعرے بازی کروائی، جس کا مقصد ماحول کو کشیدہ کرنا اور کسی ناخوشگوار واقعے کی راہ ہموار کرنا تھا۔ اختیار ولی خان کا کہنا ہے کہ اگر وہ بروقت لیگی کارکنوں کو نہ روکتے تو صورتحال سنگین رخ اختیار کر سکتی تھی۔
میرے گھر کے سامنے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنی فوڈ سٹریٹ ریلی روکی اور اپنے کارکنوں سے میرے خلاف نعرے بازی، جملے بازی کروائ تاکہ اشتعال پیدا ہو اور کچھ ناخوشگوار ہو جائے، بلا شبہ یہی سب کچھ انہیں چاہئیے ۔ پختون اور جمہوری روایات میں ایسی گھٹیا حرکتوں کی کوئ گنجائش نہیں، میں… pic.
— Ikhtiar Wali (@ikhtiarwali) January 24, 2026
اختیار ولی خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنی فوڈ اسٹریٹ ریلی ان کے گھر کے سامنے رکوائی اور کارکنوں کو ان کے خلاف نعرے بازی اور جملے بازی کی ہدایت دی تاکہ اشتعال پیدا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ پختون اور جمہوری روایات میں ایسی گھٹیا حرکتوں کی کوئی گنجائش نہیں اور اس طرزِ عمل کا مقصد محض تصادم کو ہوا دینا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:9مئی میں ملوث سہیل آفریدی کی عوامی عہدے کے لیے اہلیت سوالیہ نشان ہے، اختیار ولی
انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت اپنے ڈیرے پر موجود تھے اور اگر وہ وہاں موجود لیگی کارکنوں کو تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنے پر آمادہ نہ کرتے تو آج بڑے نقصان کا خدشہ تھا۔ اختیار ولی خان کے مطابق اس طرح کے ہتھکنڈے سیاسی اختلاف نہیں بلکہ دانستہ اشتعال انگیزی کے مترادف ہیں۔
واضح رہے کہ اختیار ولی خان نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بھی خیبرپختونخوا کی حکومت پر شدید الزامات عائد کیے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ صوبے میں سرکاری وسائل، فنڈز اور مشینری کو منظم انداز میں ریاست کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ ایک مخصوص سیاسی طبقہ حکومتی مراعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کی روزمرہ زندگی میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا تھا کہ عوام کے حقِ زندگی اور آزاد نقل و حرکت پر کسی کو ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اختیار ولی خان نے خبردار کیا تھا کہ اگر سڑکیں یا ریلوے ٹریک بند کیے گئے تو عوامی طاقت کے ذریعے انہیں کھلوایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی کا وقت ختم، عارضی اقتدار میں بڑھکیں مارنے کی ضرورت نہیں، اختیار ولی
انہوں نے خیبرپختونخوا کے عوام سے اپیل کی تھی کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کے وزرا، مشیران، ارکانِ اسمبلی، سینیٹرز یا پارٹی عہدیداران میں سے کوئی ریاستی نظام مفلوج کرنے کی کوشش کرے تو عوام خود ایسی کارروائیوں کو ناکام بنائیں، کیونکہ کسی بھی صورت عام شہریوں کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اختیار ولی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی وزیراعلی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اختیار ولی خیبرپختونخوا سہیل ا فریدی وزیراعلی
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔