Jasarat News:
2026-06-02@22:29:52 GMT

جب حفاظتی نظام کاغذوں میں ہو، تو لاشیں حقیقت بن جاتی ہیں

اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260125-03-7
وہ چیخیں جو دھوئیں میں دب گئیں، وہ آنکھیں جو مدد کی تلاش میں اندھیرے میں پتھرا گئیں، وہ سانسیں جو آگ کے شعلوں کے بیچ ٹوٹ گئیں، اور وہ خاندان جو ایک لمحے میں اپنوں سے محروم ہو گئے ایم اے جناح روڈ کے شاپنگ پلازہ میں لگنے والی آگ صرف ایک حادثہ نہیں، ایک قیامت ِ صغریٰ تھی۔ وہ لوگ جو زندہ جل گئے، وہ جو زخمی ہو کر اسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں، اور وہ بدنصیب افراد جو طویل وقت تک عمارت میں پھنسے رہے، ان سب کی تکلیف کو الفاظ میں سمیٹنا آسان نہیں۔ دھوئیں سے بھری راہداریوں میں بھاگتے قدم، کھڑکیوں سے مدد کے لیے بلند ہوتے ہاتھ، اور جان بچانے کے لیے سیڑھیوں سے لگائی جانے والی چھلانگیں ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک ایسا سوال چھوڑ گئیں جس کا جواب آج بھی کوئی دینے کو تیار نہیں۔ ایم اے جناح روڈ پر واقع اس شاپنگ پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، بہت سارے افراد زخمی ہوئے، جن میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی گئی، جبکہ متعدد افراد طویل وقت تک عمارت میں پھنسے رہے اور ابھی تک بھی۔ آگ دیکھتے ہی دیکھتے سب منزلوں تک پھیل گئی، دکانیں، سامان، روزگار اور امیدیں سب کچھ راکھ میں بدلتا چلا گیا۔ مختلف اطلاعات نے اس سانحے کی سنگینی کو مزید بڑھا دیا۔ آٹھ فائر ٹینڈرز، اسنارکل اور واٹر باوزر کے باوجود آگ پر فوری قابو نہ پایا جا سکا، جس سے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ ہمارا نظام ایسے بڑے حادثات سے نمٹنے کے لیے کس قدر کمزور ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی اہم ہے کہ بروقت نہیں پہنچا گیا جس کی وجہ سے آگ پھیلتی چلی گئی اور اس پر قابو پانا مشکل ہوا دوسرا پانی کا ختم ہونا جدید انتظام نہیں ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہوا ایک مجاہد نوجوان فرقان شہادت کے منصب فائز ہوا۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل بھی کراچی کے مختلف علاقوں میں واقع مارکیٹیں، مالز، گودام اور تجارتی مراکز فیکٹریاں آگ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ اردو بازار، صدر، بولٹن مارکیٹ، لانڈھی، کورنگی بلدیہ اور دیگر علاقوں میں ہونے والے آتشزدگی کے واقعات ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہر بار کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے، سیکڑوں دکاندار بے روزگار ہو جاتے ہیں، اور کئی خاندان زندگی بھر کے لیے اجڑ جاتے ہیں، مگر اس کے باوجود نہ کوئی مستقل حل نکالا جاتا ہے اور نہ ہی سنجیدہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں۔ ہر سال مارکیٹوں کا جلنا اب ایک معمول سا بن گیا ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحہ ٔ فکر ہے۔

یہ سوال نہایت اہم ہے کہ آخر آگ لگتی کیوں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے زیادہ تر بازاروں اور شاپنگ پلازوں میں آگ لگنے کی بنیادی وجہ ناقص برقی نظام پر ڈال کر سازشی چہروں کو چھپایا جاتا رہا ہے۔ اس سے انکار نہیں لیکن اس کی بھی ذمے داری حکومت سندھ، میئر کراچی پر ہے۔ پرانی اور بوسیدہ تاریں، ننگے جوائنٹس، اوورلوڈ میٹرز، غیر معیاری وائرنگ، غیر قانونی کنکشنز اور مناسب ارتھنگ کا فقدان کسی حادثے کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ کئی عمارتیں دہائیوں پرانی ہیں مگر ان کے برقی نظام کو کبھی جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ نہیں کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ گیس لیکیج، ناقص سلنڈرز، غیر محفوظ پائپ لائنز اور آتش گیر مواد کا بے ہنگم ذخیرہ آگ کے پھیلاؤ کو مزید تیز کر دیتا ہے۔ بدقسمتی سے بیش تر مارکیٹوں میں فائر سیفٹی کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ فائر الارم، اسپرنکلرز، اسموک ڈیٹیکٹرز، فائر ایکسٹنگوئشرز اور ایمرجنسی ایگزٹ جیسے بنیادی انتظامات یا تو موجود نہیں ہوتے یا صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہتے ہیں۔ اگر کہیں یہ آلات نصب بھی ہوں تو اکثر غیر فعال، خراب یا ناقابل ِ استعمال ہوتے ہیں۔ تنگ راہداریوں، بند ایمرجنسی دروازوں اور تجاوزات نے آگ لگنے کی صورت میں لوگوں کے لیے نکلنے کے راستے مزید محدود کر دیے ہیں، جس کا نتیجہ قیمتی جانوں کے نقصان کی صورت میں پڑتا ہے۔ اس کی ذمے داری حکومت سندھ کو قبول کرنی ہوگی اور فوری طور پر استعفا دینا ہوگا عوام میں سخت غصہ ہے اور سندھ حکومت کو فارغ کرکے اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے اور انصاف دلایا جائے۔

اس سانحے کا ایک اور نہایت افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے پاس وہ جدید آلات اور ٹیکنالوجی موجود نہیں جن کے ذریعے ہم فوری طور پر ایسی آگ پر قابو پا سکیں۔ بلند عمارتوں میں لگنے والی آگ بجھانے کے لیے جدید اسنارکلز، ہائیڈرولک لفٹس، خودکار فائر فائٹنگ سسٹمز، تھرمل کیمرے، جدید واٹر کینن اور اسموک کنٹرول ٹیکنالوجی کی شدید کمی ہے۔ فائر بریگیڈ کا عملہ محدود وسائل، پرانے فائر ٹینڈرز اور ناکافی پانی کے دباؤ کے ساتھ اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر فرائض انجام دیتا ہے، مگر جدید ایکوپمنٹ کے بغیر بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ کو بروقت قابو میں لانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے اور آگ انسانی جانوں اور املاک کو نگلتی چلی جاتی ہے۔ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ ہر بڑے حادثے کے بعد تحقیقات کے اعلانات تو کیے جاتے ہیں مگر ان کے نتائج کبھی عوام کے سامنے نہیں آتے۔ نہ ذمے داروں کو سزا ملتی ہے اور نہ ہی متاثرین کو مکمل انصاف۔ اگر اس واقعے میں عمارت کے مالکان، انتظامیہ، بجلی و گیس کے متعلقہ اداروں یا کسی سرکاری محکمے کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو ان سب کو بھی سخت ترین سزا ملنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ذمے دار اداروں کو قانونی طور پر پابند کیا جائے کہ وہ جانی و مالی نقصان کا ازالہ کریں، تاکہ آئندہ کوئی بھی انسانی جانوں کے ساتھ کھیلنے کی جرأت نہ کرے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ شہر کی تمام پرانی مارکیٹوں اور شاپنگ پلازوں کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ کیا جائے، برقی اور گیس نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے، تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے اور فائر بریگیڈ کو جدید آلات سے لیس کیا جائے۔ قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور باقاعدہ انسپیکشن کے بغیر ایسے سانحات کو روکنا ممکن نہیں۔ عوام کی طرف سے یہ باتیں سامنے آرہی ہیں کراچی کو فوری طور پر اسلام آباد یا پھر فوج کے حوالے کیا جائے سندھ حکومت سے مکمل مایوس ہوچکے لوگ۔ دل خون کے آنسو روتا ہے ان خاندانوں کے لیے جنہوں نے اپنے پیارے کھو دیے، ان زخمیوں کے لیے جو اسپتالوں میں زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں، اور ان بے بس افراد کے لیے جو آگ اور دھوئیں کے درمیان مدد کے منتظر رہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اگلے سانحے کا انتظار کریں گے یا اب بھی جاگ جائیں گے؟ اگر آج بھی ہم نے آنکھیں بند رکھیں تو کل پھر کوئی ماں اپنے بیٹے کی لاش پر رو رہی ہوگی، کوئی بچہ اپنے باپ کو ڈھونڈ رہا ہوگا، اور کوئی بازار پھر راکھ میں بدل چکا ہوگا۔ یہ آگ صرف عمارتوں کو نہیں جلاتی، یہ ہمارے ضمیر، ہماری غفلت اور ہمارے نظام کی ناکامی کو بھی بے نقاب کر دیتی ہے۔ اب فیصلہ تو کرنا ہوگا۔

عمران احمد سلفی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: لگنے والی کیا جائے کے ساتھ کے لیے ہے اور

پڑھیں:

وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔

وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔

مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد