Jasarat News:
2026-07-24@07:07:51 GMT

جب حفاظتی نظام کاغذوں میں ہو، تو لاشیں حقیقت بن جاتی ہیں

اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260125-03-7
وہ چیخیں جو دھوئیں میں دب گئیں، وہ آنکھیں جو مدد کی تلاش میں اندھیرے میں پتھرا گئیں، وہ سانسیں جو آگ کے شعلوں کے بیچ ٹوٹ گئیں، اور وہ خاندان جو ایک لمحے میں اپنوں سے محروم ہو گئے ایم اے جناح روڈ کے شاپنگ پلازہ میں لگنے والی آگ صرف ایک حادثہ نہیں، ایک قیامت ِ صغریٰ تھی۔ وہ لوگ جو زندہ جل گئے، وہ جو زخمی ہو کر اسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں، اور وہ بدنصیب افراد جو طویل وقت تک عمارت میں پھنسے رہے، ان سب کی تکلیف کو الفاظ میں سمیٹنا آسان نہیں۔ دھوئیں سے بھری راہداریوں میں بھاگتے قدم، کھڑکیوں سے مدد کے لیے بلند ہوتے ہاتھ، اور جان بچانے کے لیے سیڑھیوں سے لگائی جانے والی چھلانگیں ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک ایسا سوال چھوڑ گئیں جس کا جواب آج بھی کوئی دینے کو تیار نہیں۔ ایم اے جناح روڈ پر واقع اس شاپنگ پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، بہت سارے افراد زخمی ہوئے، جن میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی گئی، جبکہ متعدد افراد طویل وقت تک عمارت میں پھنسے رہے اور ابھی تک بھی۔ آگ دیکھتے ہی دیکھتے سب منزلوں تک پھیل گئی، دکانیں، سامان، روزگار اور امیدیں سب کچھ راکھ میں بدلتا چلا گیا۔ مختلف اطلاعات نے اس سانحے کی سنگینی کو مزید بڑھا دیا۔ آٹھ فائر ٹینڈرز، اسنارکل اور واٹر باوزر کے باوجود آگ پر فوری قابو نہ پایا جا سکا، جس سے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ ہمارا نظام ایسے بڑے حادثات سے نمٹنے کے لیے کس قدر کمزور ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی اہم ہے کہ بروقت نہیں پہنچا گیا جس کی وجہ سے آگ پھیلتی چلی گئی اور اس پر قابو پانا مشکل ہوا دوسرا پانی کا ختم ہونا جدید انتظام نہیں ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہوا ایک مجاہد نوجوان فرقان شہادت کے منصب فائز ہوا۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل بھی کراچی کے مختلف علاقوں میں واقع مارکیٹیں، مالز، گودام اور تجارتی مراکز فیکٹریاں آگ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ اردو بازار، صدر، بولٹن مارکیٹ، لانڈھی، کورنگی بلدیہ اور دیگر علاقوں میں ہونے والے آتشزدگی کے واقعات ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہر بار کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے، سیکڑوں دکاندار بے روزگار ہو جاتے ہیں، اور کئی خاندان زندگی بھر کے لیے اجڑ جاتے ہیں، مگر اس کے باوجود نہ کوئی مستقل حل نکالا جاتا ہے اور نہ ہی سنجیدہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں۔ ہر سال مارکیٹوں کا جلنا اب ایک معمول سا بن گیا ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحہ ٔ فکر ہے۔

یہ سوال نہایت اہم ہے کہ آخر آگ لگتی کیوں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے زیادہ تر بازاروں اور شاپنگ پلازوں میں آگ لگنے کی بنیادی وجہ ناقص برقی نظام پر ڈال کر سازشی چہروں کو چھپایا جاتا رہا ہے۔ اس سے انکار نہیں لیکن اس کی بھی ذمے داری حکومت سندھ، میئر کراچی پر ہے۔ پرانی اور بوسیدہ تاریں، ننگے جوائنٹس، اوورلوڈ میٹرز، غیر معیاری وائرنگ، غیر قانونی کنکشنز اور مناسب ارتھنگ کا فقدان کسی حادثے کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ کئی عمارتیں دہائیوں پرانی ہیں مگر ان کے برقی نظام کو کبھی جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ نہیں کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ گیس لیکیج، ناقص سلنڈرز، غیر محفوظ پائپ لائنز اور آتش گیر مواد کا بے ہنگم ذخیرہ آگ کے پھیلاؤ کو مزید تیز کر دیتا ہے۔ بدقسمتی سے بیش تر مارکیٹوں میں فائر سیفٹی کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ فائر الارم، اسپرنکلرز، اسموک ڈیٹیکٹرز، فائر ایکسٹنگوئشرز اور ایمرجنسی ایگزٹ جیسے بنیادی انتظامات یا تو موجود نہیں ہوتے یا صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہتے ہیں۔ اگر کہیں یہ آلات نصب بھی ہوں تو اکثر غیر فعال، خراب یا ناقابل ِ استعمال ہوتے ہیں۔ تنگ راہداریوں، بند ایمرجنسی دروازوں اور تجاوزات نے آگ لگنے کی صورت میں لوگوں کے لیے نکلنے کے راستے مزید محدود کر دیے ہیں، جس کا نتیجہ قیمتی جانوں کے نقصان کی صورت میں پڑتا ہے۔ اس کی ذمے داری حکومت سندھ کو قبول کرنی ہوگی اور فوری طور پر استعفا دینا ہوگا عوام میں سخت غصہ ہے اور سندھ حکومت کو فارغ کرکے اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے اور انصاف دلایا جائے۔

اس سانحے کا ایک اور نہایت افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے پاس وہ جدید آلات اور ٹیکنالوجی موجود نہیں جن کے ذریعے ہم فوری طور پر ایسی آگ پر قابو پا سکیں۔ بلند عمارتوں میں لگنے والی آگ بجھانے کے لیے جدید اسنارکلز، ہائیڈرولک لفٹس، خودکار فائر فائٹنگ سسٹمز، تھرمل کیمرے، جدید واٹر کینن اور اسموک کنٹرول ٹیکنالوجی کی شدید کمی ہے۔ فائر بریگیڈ کا عملہ محدود وسائل، پرانے فائر ٹینڈرز اور ناکافی پانی کے دباؤ کے ساتھ اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر فرائض انجام دیتا ہے، مگر جدید ایکوپمنٹ کے بغیر بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ کو بروقت قابو میں لانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے اور آگ انسانی جانوں اور املاک کو نگلتی چلی جاتی ہے۔ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ ہر بڑے حادثے کے بعد تحقیقات کے اعلانات تو کیے جاتے ہیں مگر ان کے نتائج کبھی عوام کے سامنے نہیں آتے۔ نہ ذمے داروں کو سزا ملتی ہے اور نہ ہی متاثرین کو مکمل انصاف۔ اگر اس واقعے میں عمارت کے مالکان، انتظامیہ، بجلی و گیس کے متعلقہ اداروں یا کسی سرکاری محکمے کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو ان سب کو بھی سخت ترین سزا ملنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ذمے دار اداروں کو قانونی طور پر پابند کیا جائے کہ وہ جانی و مالی نقصان کا ازالہ کریں، تاکہ آئندہ کوئی بھی انسانی جانوں کے ساتھ کھیلنے کی جرأت نہ کرے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ شہر کی تمام پرانی مارکیٹوں اور شاپنگ پلازوں کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ کیا جائے، برقی اور گیس نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے، تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے اور فائر بریگیڈ کو جدید آلات سے لیس کیا جائے۔ قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور باقاعدہ انسپیکشن کے بغیر ایسے سانحات کو روکنا ممکن نہیں۔ عوام کی طرف سے یہ باتیں سامنے آرہی ہیں کراچی کو فوری طور پر اسلام آباد یا پھر فوج کے حوالے کیا جائے سندھ حکومت سے مکمل مایوس ہوچکے لوگ۔ دل خون کے آنسو روتا ہے ان خاندانوں کے لیے جنہوں نے اپنے پیارے کھو دیے، ان زخمیوں کے لیے جو اسپتالوں میں زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں، اور ان بے بس افراد کے لیے جو آگ اور دھوئیں کے درمیان مدد کے منتظر رہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اگلے سانحے کا انتظار کریں گے یا اب بھی جاگ جائیں گے؟ اگر آج بھی ہم نے آنکھیں بند رکھیں تو کل پھر کوئی ماں اپنے بیٹے کی لاش پر رو رہی ہوگی، کوئی بچہ اپنے باپ کو ڈھونڈ رہا ہوگا، اور کوئی بازار پھر راکھ میں بدل چکا ہوگا۔ یہ آگ صرف عمارتوں کو نہیں جلاتی، یہ ہمارے ضمیر، ہماری غفلت اور ہمارے نظام کی ناکامی کو بھی بے نقاب کر دیتی ہے۔ اب فیصلہ تو کرنا ہوگا۔

عمران احمد سلفی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: لگنے والی کیا جائے کے ساتھ کے لیے ہے اور

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا