برابری کی بنیاد پر حقوق فراہمی مضبوط ریاست کی بنیاد ہے: اطہر من اللہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
لاہور: (نیوزڈیسک) جسٹس ریٹائرڈ اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، برابری کی بنیاد پر حقوق کی فراہمی ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ہے۔
الحمرا میں سہ روزہ تھنک فیسٹ 2026 کے آخری روز خصوصی گفتگو میں جسٹس (ر) اطہر من اللہ نے بتایا کہ مجھے خوشی ہے میں جانوروں کے حقوق پر فیصلہ دے چکا ہوں، جانوروں اور انسانوں کے ساتھ زیادتی میں خاص فرق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دونوں معاملے ایک ہی سوچ سے آتے ہیں، یہ سوچ معاشرے میں ظلم پھیلاتی ہے، بنیادی حقوق معاشرے میں حکومت کی جانب سے لاگو کروائے جاتے ہیں، معاشرے کی طاقت برابری میں ہوتی ہے۔
اطہر من اللہ نے واضح کیا کہ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب جمہوریت نہیں ہوتی، جب ملک ایک اتھاریٹیرین سوچ سے چلتے ہیں، پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، جہاں آئین موجود ہے، بنیادی حقوق موجود ہیں لیکن یہ کاغذ پر ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ کاغذی باتیں عملی زندگی میں کوئی حصہ رکھتی ہیں؟ یہاں پر اتھاریٹیرین سسٹم ہے، اس سسٹم سے سب سے زیادہ نقصان عام اور غریب آدمی کا ہوتا ہے، اتھاریٹیرین نظام ایک کمزور ملک کی نشانی ہوتی ہے مضبوط ملک کی نہیں۔
جسٹس (ر) اطہر من اللہ نے حاضرین سے کہا کہ ہمیں خود سے سوال کرنا ہو گا کہ کیا ہم جمہوری ملک میں ہیں یا اتھاریٹیرین نظام میں ہیں؟ کاوان نامی ہاتھی کے حق کئے گئے فیصلے میں بہت سی باتیں نہیں لکھیں کیوں کہ وہ شرمندگی کا باعث بنتیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اطہر من اللہ نے کی بنیاد
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔