برابری کی بنیاد پر حقوق کی فراہمی مضبوط ریاست کی بنیاد ہے،جسٹس (ر) اطہر من اللہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
برابری کی بنیاد پر حقوق کی فراہمی مضبوط ریاست کی بنیاد ہے،جسٹس (ر) اطہر من اللہ WhatsAppFacebookTwitter 0 25 January, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )جسٹس ریٹائرڈ اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، برابری کی بنیاد پر حقوق کی فراہمی ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ہے۔الحمرا میں سہ روزہ تھنک فیسٹ 2026 کے آخری روز خصوصی گفتگو میں جسٹس (ر)اطہر من اللہ نے بتایا کہ مجھے خوشی ہے میں جانوروں کے حقوق پر فیصلہ دے چکا ہوں، جانوروں اور انسانوں کے ساتھ زیادتی میں خاص فرق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دونوں معاملے ایک ہی سوچ سے آتے ہیں، یہ سوچ معاشرے میں ظلم پھیلاتی ہے، بنیادی حقوق معاشرے میں حکومت کی جانب سے لاگو کروائے جاتے ہیں، معاشرے کی طاقت برابری میں ہوتی ہے۔اطہر من اللہ نے واضح کیا کہ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب جمہوریت نہیں ہوتی، جب ملک ایک اتھاریٹیرین سوچ سے چلتے ہیں، پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، جہاں آئین موجود ہے، بنیادی حقوق موجود ہیں لیکن یہ کاغذ پر ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ کاغذی باتیں عملی زندگی میں کوئی حصہ رکھتی ہیں؟ یہاں پر اتھاریٹیرین سسٹم ہے، اس سسٹم سے سب سے زیادہ نقصان عام اور غریب آدمی کا ہوتا ہے، اتھاریٹیرین نظام ایک کمزور ملک کی نشانی ہوتی ہے مضبوط ملک کی نہیں۔ جسٹس (ر) اطہر من اللہ نے حاضرین سے کہا کہ ہمیں خود سے سوال کرنا ہو گا کہ کیا ہم جمہوری ملک میں ہیں یا اتھاریٹیرین نظام میں ہیں؟ کاوان نامی ہاتھی کے حق کئے گئے فیصلے میں بہت سی باتیں نہیں لکھیں کیوں کہ وہ شرمندگی کا باعث بنتیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹیکس نیٹ میں توسیع کے بغیر معیشت کا استحکام ممکن نہیں، چیئرمین ایف بی آر ٹیکس نیٹ میں توسیع کے بغیر معیشت کا استحکام ممکن نہیں، چیئرمین ایف بی آر اسلام آباد کی 50فیصد سے زائد ہائی رائز عمارتوں میں فائرسیفٹی آلات مکمل نہیں، ذرائع وادی تیرہ میں خفیہ آپریشنز جاری رہتے ہیں، کے پی حکومت غلط بیانی نہ کرے، عطا تارڑ دعوت اسلامی کے زیر اہتمام دستار فضیلت و تقسیم اسناد اجتماع کا انعقاد وادی تیراہ کو خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس نہ لیا تو پختون قوم کا جرگہ بلائوں گا، سہیل آفریدی کا اعلان چیئرمین سی ڈی اے کی ہدایت پر منفرد کمیونٹی مارکیٹوں کا کامیاب انعقاد جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اطہر من اللہ نے کی بنیاد
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔