عدالت خاتون کی رضا کے بغیر طلاق کا دعویٰ خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی: سپریم کورٹ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے اصول طے کر دیا ہے کہ خاتون کی واضح رضامندی کے بغیرطلاق کا دعویٰ خلع میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس مسرت ہلالی نے پانچ صفحات کا فیصلہ تحریر کیا، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس ہلالی کے فیصلہ سے اتفاق کیا، دو رکنی بنچ نے قرار دیا کہ عدالت ازخود طلاق کے دعویٰ کو خلع میں تبدیل نہیں کرسکتی، فیملی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے درخواست گزار خاتون نائلہ جاوید کو حق مہر کی 12 لاکھ کی رقم دینے کا حکم دے دیا۔
کوئٹہ میں خون جماتی سردی سے سڑکوں پرکھڑا پانی جم گیا
عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کے مطابق نائلہ جاوید نے شادی ختم کرنے کی درخواست ظلم اور قانونی بنیادوں پر دائر کی تھی، فیملی کورٹ نے ظلم کے الزامات پر فیصلہ کی بجائے خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کیا، فیملی کورٹ نے خلع کی بنیاد پر خاتون کو حق مہر کی رقم چھوڑنے کا حکم دیا تھا، خاتون درخواست گزار نے خلع نہیں مانگا تھا۔
سپریم کورٹ کے مطابق واضح رضامندی کے بغیر طلاق کا دعویٰ خلع میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا، شوہر نے دوران مقدمہ دوسری شادی کی، دوسری شادی مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے سیکشن 6 کی خلاف ورزی ہے، شوہر نے دوسری شادی پر اجازت یا آربیٹریشن کونسل کی منظوری نہ لینے کا اعتراف کیا۔
ٹی 20ورلڈکپ کیلئے قومی سکواڈ کا اعلان،سلمان علی آغا کپتان مقرر
فیصلہ میں بتایا گیا کہ شوہر نے بیوی کو نان نفقہ بھی فراہم نہیں کیا، جرح کے دوران خاتون کی کردار کشی کی گئی، یہ تمام عوامل قانونی طور پر ظلم کے زمرے میں آتے ہیں، ان حالات میں خاتون کا شوہر کے ساتھ رہنے سے انکار نافرمانی نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: خلع میں تبدیل نہیں
پڑھیں:
230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
اسلام آباد (وقائع نگار) انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کی عدالت نے 26 نومبر، سنگجانی جلسہ ، سپریم کورٹ کے باہر احتجاج و دیگر مقدمات میں 230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں و کارکنان کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی۔