عراقی حکام اور جماعتوں کی جانب سے نوری المالکی کو وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار نامزد ہونے پر مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ مسعود بارزانی نے نوری المالکی کی نامزدگی کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا: "ہم نوری المالکی کی بطور وزیراعظم نامزدگی پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ان کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔ ہم مسائل و اختلافات کے حل اور ملک کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے ان کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔" اسلام ٹائمز۔ عراقی شیعہ "کوارڈینیشن فریم ورک" کی جانب سے نوری المالکی کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کیے جانے کے بعد، مختلف عراقی حکام اور شخصیات نے علیحدہ علیحدہ پیغامات میں انہیں مبارکباد پیش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عراق کی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ مسعود بارزانی نے نوری المالکی کی نامزدگی کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا: "ہم نوری المالکی کی بطور وزیراعظم نامزدگی پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ان کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔ ہم مسائل و اختلافات کے حل اور ملک کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے ان کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔" ادھر "ائتلاف العزم" کے سربراہ مثنیٰ السامرایی نے بھی نوری المالکی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس حساس مرحلے پر آئینی راستے پر چلنا اور قومی اتحاد برقرار رکھنا عراق کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نوری المالکی کو مبارکباد دیتے ہیں اور کوارڈینیشن فریم ورک کے انتخاب کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم عراق کی خدمت کے لیے مشترکہ اقدام اور اتفاقِ رائے پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم گزشتہ چار سالوں کے دوران محمد شیاع السودانی اور ان کی حکومت کی کوششوں کو بھی سراہتے ہیں۔
عراقی صدر عبداللطیف جمال رشید نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا: "ہم 'دولتِ قانون اتحاد' کے سربراہ نوری المالکی کو کوارڈینیشن فریم ورک کی جانب سے وزیراعظم نامزد ہونے پر مبارکباد دیتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ آنے والا دور سیاسی استحکام کی مضبوطی، قومی شراکت داری کے اصولوں کے فروغ اور عراق کے اعلیٰ مفادات کو ترجیح دینے کا سبب بنے گا تاکہ عوام کی ترقی اور سلامتی کی امنگیں پوری ہو سکیں۔" حزب الدعوہ الاسلامیہ نے کوارڈینیشن فریم ورک کی جانب سے نوری المالکی پر اعتماد کے اظہار کو سراہتے ہوئے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ کوارڈینیشن فریم ورک نے اس حساس دور میں نوری المالکی کو حکومت سازی کی ذمہ داری سونپ کر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے، ہم اس کی قدر کرتے ہیں۔ موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام اسلامی اور قومی قوتوں کا اتحاد ناگزیر ہے تاکہ ایک ایسی حکومت تشکیل دی جا سکے جو مخلص اور اہل افراد پر مشتمل ہو۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ عراق تمام عراقیوں کا وطن ہے اور ملک کی دولت کی منصفانہ تقسیم ہونی چاہیے تاکہ معاشی بحران کا بوجھ کم کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کی شب، عراق کی سرکاری نیوز ایجنسی نے نوری المالکی کو وزارتِ عظمیٰ کا حتمی امیدوار نامزد کرنے کی خبر دی تھی۔ اس سے قبل موجودہ وزیراعظم محمد شیاع السودانی نوری المالکی کے حق میں دستبردار ہو گئے تھے۔ یاد رہے کہ نوری المالکی 2006ء سے 2014ء تک عراق کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ ان کا وہ دور عراق پر امریکی قبضے، 2011ء میں امریکی افواج کے انخلاء اور 2014 میں داعش کے حملوں کی وجہ سے عراق کی تاریخ کا مشکل ترین دور تصور کیا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کوارڈینیشن فریم ورک نوری المالکی کی کی جانب سے کے سربراہ کرتے ہیں عراق کی کے لیے
پڑھیں:
دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
ایک روزہ سیریز کے دوسرے میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کے لیے 232 رنز کا ہدف دے دیا۔
لاہور میں جاری میچ میں پاکستان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز بنا سکی۔
آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین اور کپتان جوش انگلس 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ میٹ رینشا 43، اولیور پیک 31، میتھیو شارٹ 15، مارنس لبوشین 5، میتھیو کوہنمن 5 اور ایلکس کیرے 0 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔
پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 3 جبکہ عرفات منہاس، ابرار احمد اور حارث رؤف نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔