سنی دیول کا پاکستان مخالف ڈائیلاگ؛ یاسر حسین نے چاروں خانے چت کردیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
سنی دیول پاکستان مخالف فلموں کے لیے مشہور ہیں ان کی بدنام زمانہ فلموں میں زہریلا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔
معروف اداکار اور ہدایت کار یاسر حسین سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتے ہیں اور ان کی عقاب نگاہوں نے متعصبانہ رویے پر بھارتی اداکار سنی دیول کو بے نقاب کردیا۔
اپنی ایک فلم کی مارکیٹنگ کے دوران سنی دیول آپے سے باہر ہوگئے اور اپنی فلم بارڈر 2 کے ایک ڈائیلاگ کو حاضرین کے لیے پیش کرنے لگے۔
فوجی پس منظر کے ساتھ فلم بارڈر 2 کے اس ڈائیلاگ میں لاہور کا تذکرہ کیا گیا تھا اور جذباتی ہندوؤں کو اکسانے کی ناکام کوشش تھی۔
تاہم فلم کی پروموشن کے دوران جب یہ ڈائیلاگ سنی دیول نے اپنے روایتی بلند آہنگ لہجے میں دہرانا چاہا تو فلم کے ساز و سامان اور ایڈیٹنگ نہ ہونے سے وہ پھیکا رہا۔
سنی دیول نے جتنی بھی جان مارنے کی کوشش کی وہ ڈائیلاگ کو فلم کی طرح حاضرین کے سامنے پیش نہ کرسکے۔
انسٹاگرام پر جب یہ ویڈیو وائرل ہوئی تو یاسر حسین کب یہ موقع ہاتھ سے جانے دینے والے تھے فوراً کمنٹ کے ساتھ اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں شییئر کیا کہ انکل کی تو اپنی آواز نہیں نکل رہی۔
یاسر حسین کی اس انسٹاگرام اسٹوری پر سوشل میڈیا صارفین نے بھی زبردست ردعمل دیا اور بھارت فلم انڈسٹری کی منافقت کا اجاگر کیا۔
کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ بالی ووڈ میں اب فلمیں کم اور ہندوتوا کا نظریہ زیادہ پھیلایا جاتا ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ جب تخلیق کار بنجر ہوجائیں تو بیچنے کو صرف پروپیگنڈا بچتا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل یاسر حسین سنی دیول
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔