حماس کے سینئر رہنما ڈاکٹر عطاء اللہ ابو السبح انتقال کر گئے
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
حماس نے ایک بیان میں ڈاکٹر عطاء اللہ کی وفات پر ایک تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ قائد ڈاکٹر عطا اللہ ابو السبح کی جدوجہد کا سفر قربانی اور فلسطینی قومی منصوبے کے دفاع سے عبارت تھا۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی بیورو کے رُکن اور ممتاز فلسطینی رہنما ڈاکٹر عطاء اللہ ابو السبح اتوار کی صبح 78 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ڈاکٹر عطا اللہ ابو السبح گذشتہ برسوں میں تحریک کے نمایاں ترین چہروں میں شمار ہوتے رہے۔ انہوں نے فلسطینی حکومتوں میں متعدد اہم سرکاری ذمہ داریاں انجام دیں جن میں دسویں فلسطینی حکومت میں وزیر ثقافت اور وزیر امور اسیران کے عہدے شامل ہیں۔ اس دوران وہ قابض اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی اسیران کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اپنی بھرپور اور مسلسل جدوجہد کے باعث جانے جاتے تھے۔ مرحوم ابو السبح نے غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں بطور پروفیسر خدمات انجام دیں۔ وہ فلسطینی ثقافتی زندگی میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتے تھے۔ ایک ادیب، شاعر اور مصنف کی حیثیت سے انہوں نے متعدد شعری مجموعے اور تصانیف پیش کیں جن میں سماجی اور سیاسی مسائل کو قومی فکر اور انسانی پہلو کے امتزاج کے ساتھ پیش کیا گیا۔
ڈاکٹر عطا اللہ ابو السبح سنہ 1948ء میں عسقلان کے شمال میں واقع گاؤں السوافير الشرقیہ میں پیدا ہوئے جو بعد ازاں قابض اسرائیل کے قبضے اور تباہی کا شکار ہوا۔ انہوں نے رفح میں مہاجرین کے ماحول میں پرورش پائی۔ بعد ازاں رام اللہ کمیونٹی کالج اور النجاح نیشنل یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور پھر سنہ 1995ء میں سوڈان کی ام درمان یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری مکمل کی۔ انہوں نے مختلف مواقع پر خصوصاً وزارت اسیران کے دور میں فلسطینی عوام کے حقوق کے دفاع قابض، اسرائیل کے خلاف ڈٹ جانے اور عالمی برادری کو فلسطینی کاز کی حمایت کے لیے متحرک کرنے پر زور دیا۔ دوسری جانب حماس نے ایک بیان میں ڈاکٹر عطاء اللہ کی وفات پر ایک تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ قائد ڈاکٹر عطا اللہ ابو السبح کی جدوجہد کا سفر قربانی اور فلسطینی قومی منصوبے کے دفاع سے عبارت تھا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے اس جائز حق کا بھرپور دفاع کیا جو آزادی اور خود مختاری کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد کا محور ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈاکٹر عطا اللہ ابو السبح ڈاکٹر عطاء اللہ انہوں نے
پڑھیں:
بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
گلگت: بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ دعا گو ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں کیونکہ خطے اور دنیا میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران میں ایک اسکول پر میزائل حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں کی شہادت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا بوجھ صرف متاثرہ ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام اٹھا رہے ہیں، اس لیے امن کی تمام کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں جس نے ان کی طرح ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گلگت بلتستان کی ہر تحصیل تک پہنچے ہیں اور عوام کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کا واحد ایسا فلاحی پروگرام ہے جو براہِ راست غریب عوام تک پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے خلاف کی جانے والی تمام سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کا تاریخی کردار رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو دفاعی اور معاشی دونوں لحاظ سے مضبوط ہونا چاہیے اور ایسی معاشی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی مقامی لوگوں کو ان کے وسائل پر حق ملکیت دلانے کے لیے کام کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو حصہ دار بنایا جانا چاہیے تاکہ ترقی کے ثمرات سب سے پہلے مقامی لوگوں تک پہنچ سکیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر عوام نے انتخابات میں ان کی جماعت پر اعتماد کیا تو گلگت بلتستان میں صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔