امریکا ‘ مشی گن کی جھیل کو بھی برفباری نے گھیر لیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکا میں شدید ٹھنڈ کے باعث مشی گن جھیل آرکٹک ہواو¿ں کی لہر کے باعث منجمد ہو گئی۔ کہا جا تا ہے کہ یہ امریکی تاریخ میں چوتھی بار ایسا ہوا ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق شدید سردی اور قطبی سرد ہواو¿ں کی وجہ سے جھیل نے برف کی چادر اوڑھ لی ہے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ موسمیاتی حالات کے تحت جھیل میں برفانی حصہ کافی بڑھ جاتا ہے حالانکہ مکمل طور پر پوری جھیل کا منجمد ہونا عالمی موسمیاتی ریکارڈ کے لحاظ سے بہت زیادہ نایاب ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شدید سرد لہر کی وجہ سے ایری جھیل سمیت دیگر امریکی جھیلوں کی سطح بھی برف سے ڈھکی ہوئی ہے۔ یہ بات بھی علم میں رہے کہ مشی گن کی جھیل ماضی میں بھی انتہائی ٹھنڈ کے موسموں میں برف سے ڈھکتی رہی ہے لیکن یہ دوسرا موقع ہے جو اتنے بڑے پیمانے پر جھیل کا انجماد سامنے آیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔