امریکا ‘ مشی گن کی جھیل کو بھی برفباری نے گھیر لیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکا میں شدید ٹھنڈ کے باعث مشی گن جھیل آرکٹک ہواو¿ں کی لہر کے باعث منجمد ہو گئی۔ کہا جا تا ہے کہ یہ امریکی تاریخ میں چوتھی بار ایسا ہوا ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق شدید سردی اور قطبی سرد ہواو¿ں کی وجہ سے جھیل نے برف کی چادر اوڑھ لی ہے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ موسمیاتی حالات کے تحت جھیل میں برفانی حصہ کافی بڑھ جاتا ہے حالانکہ مکمل طور پر پوری جھیل کا منجمد ہونا عالمی موسمیاتی ریکارڈ کے لحاظ سے بہت زیادہ نایاب ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شدید سرد لہر کی وجہ سے ایری جھیل سمیت دیگر امریکی جھیلوں کی سطح بھی برف سے ڈھکی ہوئی ہے۔ یہ بات بھی علم میں رہے کہ مشی گن کی جھیل ماضی میں بھی انتہائی ٹھنڈ کے موسموں میں برف سے ڈھکتی رہی ہے لیکن یہ دوسرا موقع ہے جو اتنے بڑے پیمانے پر جھیل کا انجماد سامنے آیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔