امریکا کی متعدد ریاستیں تباہ کن برفانی طوفان کی زد میں، 10 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
امریکا کی کئی ریاستیں اس وقت ایک شدید اور تباہ کن برفانی طوفان کی لپیٹ میں ہیں، جس کے باعث بڑے پیمانے پر نظامِ زندگی متاثر ہو رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شدید برفباری اور بارش کے اس سلسلے سے دو سو ملین سے زائد افراد متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ٹیکساس، اوکلاہوما اور آرکنساس میں بھاری برفباری ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد مجموعی طور پر 18 ریاستوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے واشنگٹن، نیویارک، فلاڈیلفیا اور بوسٹن میں بھی شدید برفباری کی پیشگوئی کی ہے۔ نیویارک کے میئر نے شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرتے ہوئے گھروں میں رہنے کی ہدایت جاری کی ہے، جبکہ 9 ریاستوں میں نیشنل گارڈ کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
برفانی طوفان کے باعث ملک بھر میں 10 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں، جب کہ 84 ہزار سے زیادہ صارفین بجلی کی فراہمی سے محروم ہیں۔
امریکی صدر نے کہا ہے کہ وفاقی اور ریاستی ادارے مل کر عوام کی حفاظت کے لیے اقدامات کر رہے ہیں اور طوفان سے متاثرہ تمام ریاستوں سے مسلسل رابطہ برقرار رکھا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔