بالائی علاقوں میں شدید برفباری سے نظام زندگی متاثر ‘راستے بند‘ ریسکیو آپریشن جاری‘بلوچستان میں پارہ منفی 12ر یکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور،کراچی،کوئٹہ،کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) ملک کے بالائی علاقوں میں مسلسل برفباری اور شدید سرد موسم کے باعث نظامِ زندگی بری طرح متاثر ہو گیا ہے۔ آزاد کشمیر، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے بیشتر اضلاع میں کئی کئی فٹ برف پڑ چکی ہے، جس کے نتیجے میں رابطہ سڑکیں بند، بجلی کا نظام درہم برہم اور سیکڑوں افراد محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔متعدد مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ پاک فوج اور سول انتظامیہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر ریسکیو اور امدادی آپریشن جاری ہیں۔آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں گزشتہ رات سے جاری شدید برفباری نے معمولاتِ زندگی مفلوج کر دیے ہیں۔ وادی نیلم، اپر نیلم، اٹھ مقام، سدھنوتی، باغ اور ہٹیاں بالا سمیت متعدد بالائی علاقوں میں مسلسل برفباری کے باعث سڑکیں مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں۔دریں اثنا ضلع حویلی کی حدود میں شدید برفباری کے دوران ایمبولینس سمیت 25 کے قریب گاڑیاں برف میں پھنس گئیں، جن میں خواتین اور بچوں سمیت تقریباً 100 افراد سوار تھے۔برف میں پھنسے مسافروں کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ فوجی دستوں نے انتہائی دشوار موسمی حالات میں کارروائی کرتے ہوئے 32 مسافروں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ریسکیو آپریشن کے دوران ایک ایمبولینس میں موجود دو میتوں کو بھی نکال لیا گیا، جس پر لواحقین نے پاک فوج کی بروقت کارروائی کو سراہا۔مظفرآباد میں کئی سالوں بعد برفباری ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے سردی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ وادی نیلم میں شدید برفباری کے باعث 2 مکانات منہدم ہو گئے، تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم شاہراہیں بند ہو گئیں، جس سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔شدید برفباری اور تیز ہواؤں کے باعث آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ کئی مقامات پر بجلی کے پولز گر گئے جب کہ تاریں ٹوٹنے کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں سے بجلی کی فراہمی معطل ہے۔حکام کے مطابق موسم بہتر ہوتے ہی بحالی کا کام شروع کیا جائے گا، تاہم فی الحال دشوار حالات کے باعث مرمتی کام میں مشکلات درپیش ہیں۔اْدھر خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں بھی وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ وادی کاغان میں برفباری کے باعث رابطہ سڑکیں بند ہو گئیں، جس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی۔ اس دوران آنے والے سیاحوں کو بالاکوٹ میں روک لیا گیا ہے تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔دیربالا، کمراٹ اور لواری ٹنل میں شدید برفباری کے باعث آمدورفت معطل ہو گئی ہے۔ برف جمنے اور پھسلن کے باعث گاڑیوں کی نقل و حرکت ممکن نہیں رہی، جس سے مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔بعض علاقوں میں اشیائے خورونوش کی قلت کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ملاکنڈ میں کئی سالوں بعد برفباری دیکھنے میں آئی، جس کے باعث سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ بعض مقامات پر برف کے وزن اور تیز ہواؤں کے باعث درخت سڑکوں پر گر گئے، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔انتظامیہ نے فوری طور پر درخت ہٹانے اور سڑکیں کھولنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ضلع خیبر میں برفباری کے باعث پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق پھنسے ہوئے افراد کو پائندہ چینہ اسکول اور ہاسٹل منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں عارضی رہائش اور ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔علاوہ ازیں شانگلہ ٹاپ میں 22 گھنٹوں سے برف میں پھنسے 4 سیاحوں کو بھی کامیاب ریسکیو آپریشن کے بعد محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔گلگت بلتستان میں شدید برفباری کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ چلاس اور اپر کوہستان میں برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہ قراقرم مختلف مقامات پر بند کر دی گئی ہے۔ شاہراہ بند ہونے سے سیکڑوں مسافر اور مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں، جس کے باعث اشیائے ضروریہ کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے۔ضلع استور میں شدید برفباری کے باعث نظامِ زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ استور کا ملک بھر سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے جب کہ راما میڈوز، دیوسائی، نانگا پربت اور برزل ٹاپ میں 5 سے 6 فٹ تک برف پڑ چکی ہے۔ مشرف چوک میں برفانی تودہ گرنے سے سڑک بند ہو گئی، جسے کھولنے کے لیے بھاری مشینری طلب کر لی گئی ہے۔ہنزہ اور نگر میں برفباری کے باعث رابطہ سڑکیں بند ہیں، جس سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وادی چیپورسن میں خیموں میں مقیم زلزلہ متاثرین کو شدید سردی اور مسلسل برفباری کے باعث سخت حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔امدادی ادارے متاثرین تک ضروری سامان پہنچانے کے لیے متبادل راستوں اور فضائی ذرائع پر غور کر رہے ہیں۔ملک کے مختلف حصوں میں شدید برفباری کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ، ریسکیو ادارے اور پاک فوج ہائی الرٹ ہیں۔ شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، موسمی صورتحال سے باخبر رہنے اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز تک بالائی علاقوں میں سردی اور برفباری کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔علاوہ ازیںبلوچستان میں درجہ حرارت منفی 12 تک ہوگیا جہاں بہتا پانی بھی جمنے لگا ہے، جس سے نظام زندگی درہم برہم ہوکر رہ گیا۔صوبے کے شمالی اور بالائی علاقوں میں برفباری رکنے کے باوجود شدید سردی اور سائبرین ہواؤں کا سلسلہ برقرار ہے۔ کوئٹہ، قلات، چمن اور زیارت میں درجہ حرارت منفی سطح پر گرنے سے گھروں کی پائپ لائنوں میں پانی جم گیا، جس کے باعث شہریوں کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔شدید سردی کے باعث تالابوں، سڑکوں اور کھلے مقامات پر پانی منجمد ہو گیا ہے۔ کوئٹہ زیارت شاہراہ متعدد مقامات پر برف سے ڈھکی ہوئی ہے۔ انتظامیہ نے اگلے 24 گھنٹوں تک سیاحوں کے زیارت جانے پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ این 50 ژوب ہائی وے کئی مقامات سے بند ہے۔چمن، قلعہ عبداللہ، زیارت، پشین اور توبہ اچکزئی سمیت دیگر علاقوں میں معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہیں۔پاک افغان سرحدی اور بالائی علاقوں میں درجہ حرارت منفی 12 ڈگری تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نمک پاشی اور مشینری کے ذریعے سڑکیں کھولنے کا عمل جاری ہے۔دریں اثناء خیبر پختونخوا میں بارش اور برفباری کے دوران حادثات میں ہونے والے جانی نقصان کی تفصیل سامنے آ گئی۔پروونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے 22 جنوری سے اب تک بارشوں اور برفباری سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی ہے۔رپورٹ کے مطابق حادثات کے دوران 9 افراد جاں بحق ہوئے ، جن میں 7 بچے، ایک مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔ بارشوں اور برفباری کے باعث 5 گھر وں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔چترال، مالاکنڈ، شانگلہ اور خیبر میں لینڈ سلائیڈنگ، گھروں کی چھتیں اور برفانی تودے گرنے کے حادثات پیش آئے۔دوسری جانب کراچی میں سائبیریا سے آنے والی یخ بستہ ہواؤں کے باعث سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور شہری شدید سرد موسم سے ٹھٹھر کر رہ گئے ہیں اور معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں،شہر قائد کے شہریوں نے گھر میں رہنے کو ترجیح دی،شہر کے سرکاری اور نجی دفاتر میں ملازمین کی حاضری کم رہی۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز کے مقابلے میں کم سے کم درجہ حرارت میں 3 ڈگری جب کہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں 5.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہے محکمہ موسمیات کے مطابق میں شدید برفباری کے باعث کے مختلف علاقوں میں بالائی علاقوں میں ڈگری سینٹی گریڈ رابطہ سڑکیں بند ریسکیو ا پریشن لینڈ سلائیڈنگ اور برفباری برفباری اور سردی کی شدت کا سامنا ہے جس کے باعث کے مطابق ا مقامات پر ریکارڈ کی ں کے باعث کے باعث ا کے دوران متاثر ہو جاری ہے کو شدید پاک فوج ہو گیا گیا ہے کی گئی بند ہو ہو گئی ہواو ں گئی ہے
پڑھیں:
کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
کراچی:شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔
ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔