انڈونیشیا کے صوبے جاوا میں موسمی شدت کے باعث آنے والی شدید بارش اور زمین کھسکنے کے حادثے نے انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں اب تک سات افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 82 افراد لاپتہ ہیں اور ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق مقامی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر رکھا ہے، امدادی ٹیمیں بارش اور خراب زمینی حالات کے باوجود متاثرہ مقامات پر پہنچ کر ملبے تلے دبے افراد کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں، موسمی حالات کی شدت اور زمین کی نرمی کے باعث بچاؤ کی کارروائیاں پیچیدہ اور خطرناک ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق زلزلے یا لینڈ سلائیڈنگ کے متاثرہ علاقوں میں رابطہ سڑکیں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں، جس سے امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں، مقامی انتظامیہ نے لوگوں کو محتاط رہنے اور محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی ہیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

علاقائی حکام کا کہنا ہے کہ بارش میں کمی کے بعد ہی ملبے تلے دبے افراد کی بازیابی کا عمل مکمل طور پر ممکن ہوگا۔ انہوں نے بین الاقوامی امدادی تنظیموں سے بھی تعاون کی درخواست کی ہے تاکہ متاثرین کو فوری طبی امداد، خوراک اور عارضی پناہ گاہیں فراہم کی جا سکیں۔

یہ واقعہ انڈونیشیا کے ان علاقوں میں ماحولیاتی خطرات کی طرف دوبارہ تنبیہ ہے، جہاں موسمی تغیرات اور زمین کی غیر مستحکم صورتحال اکثر انسانی زندگی کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔ مقامی حکام نے آئندہ دنوں کے لیے بھی شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے، جس کے باعث عوام سے مکمل ہوشیاری اور حفاظتی اقدامات کی اپیل کی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ